مثانہ کے اندر کیڑا بنتا ہے وہ سائنس والوں کے اقرار کی رُو سے ہوا سے نہیں بنتا اور ہوا کو اس میں کوئی دخل نہیں ایسا ہی جو گولر کے پھل میں چھوٹے چھوٹے کیڑے پَردَار بن جاتے ہیں جن سے گولر کا پھل بگڑتا نہیں بلکہ شیریں اور کھانے کے لائق ہو جاتا ہے اُن کو بھی ہوا سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے گولر کا کچا پھل اُن کے لئے بطور نطفہ کے ہوتا ہے اور جب تک وہ کچا ہوتا ہے اس میں کوئی کیڑا دکھائی نہیں دیتا اور لوگ پکا پکاکر اس کو کھاتے ہیں اور پھر جیسے جیسے آہستہ آہستہ وہ پکتا جاتا ہے تو اُسی کے مغز میں سے چھوٹے چھوٹے جانور پَردار کسی قدر سبز چمکدار بنتے جاتے ہیں اور لوگ مع کیڑوں کے اُس پھل کو کھا جاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ان جانداروں کا محض ایک پھل میں سے بن جانا ایک نرالا قانونِ قدرت ہے جس کو نیستی سے ہستی کہنا چاہئے کیونکہ یہ اُن کیڑوں کی طرح نہیں ہوتے جو ایک متعفن چیز میں پائے جاتے ہیں جو ایک قسم کے زہریلے کیڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب دال یا دودھ یا گوشت وغیرہ میں اُس قسم کے کیڑے پڑتے ہیں تو وہ چیز سخت متعفن ہو جاتی ہے اور اُس میں سے نہایت گندی بدبُو آتی ہے اور اس میں ایک قسم کی زہر پڑجاتی ہے اسی وجہ سے اس کاکھانا مضر صحت ہوتا ہے لیکن یہ کیڑے گولر کے پھل کو مضر صحت نہیں کرتے بلکہ وہ پھل تبھی کھانے کے لائق ہوتا ہے جب وہ کیڑے اس میں پیدا ہو جاتے ہیں ایسا ہی ہم اسؔ جگہ بہت سی ایسی مثالیں پیش کرسکتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے کیڑے ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ ہوا کا اُن میں کچھ بھی تعلق نہیں یہ بات توہر ایک عقلمند سمجھ سکتاہے کہ گندی ہوا سے گندی چیزیں ہی پیدا ہوتی ہیں نہ ایسی پاک اور مفیدِ صحت چیزیں جو کھانے کے لائق ہوں۔ پس یہ عقیدہ کہ تمام کیڑے جو پیداہوتے ہیں وہ دراصل ہوا کے کیڑے ہیں یہ صحیح نہیں ہے بلکہ اس جگہ یہ سوال بھی پیش ہوسکتا ہے کہ دراصل ہوا کیڑوں سے پاک ہے۔ اس کاثبوت یہ ہے کہ جیسے کسی اُونچے پہاڑ کی بلندی پر چڑھیں جس کی سطح کھلی اور ہر ایک روک سے محفوظ ہو وہ ہوا کیڑوں سے خالی ہوتی ہے یا یوں کہو کہ بہت ہی کم