ذریعہ سے خدا کی قدرتوں کے دریافت کرنے کے لئے جان توڑ کوششیں کر رہا ہے مگر ابھی اس قدر اُس کے معلومات میں کمی ہے کہ اس کو نامراد اور ناکام ہی کہنا چاہئے۔ صدہا اسرار غیبیہ اہل کشف اور اہل مکالمہ الٰہیہ پر کھلتے ہیں اورہزاہا راستباز اُن کے گواہ ہیں مگر فلسفی لوگ اب تک اُن کے منکر ہیں جیسا کہ فلسفی لوگ تمام مدار ادراک معقولات اور تدبر اور تفکر کادماغ پر رکھتے ہیں مگر اہل کشف نے اپنی صحیح رؤیت اورروحانی تجارب کے ساتھ معلوم کیا ہے کہ انسانی عقل اور معرفت کا سرچشمہ دِل ہے جیسا کہ میں پینتیس ۳۵برس سے اس بات کا مشاہدہ کر رہا ہوں کہ خدا کا الہام جو معارف رُوحانیہ اور علوم غیبیہ کا ذخیرہ ہے دل پر ہی نازل ہوتا ہے بسا اوقات ایک ایسی آواز سے دل کا سرچشمہء علوم ہونا کھل جاتا ہے کہ وہ آواز دل پر اس طور سے بشدّت پڑتی ہے کہ جیسے ایک ڈول زور کے ساتھ ایک ایسے کنوئیں میں پھینکا جاتا ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے تب وہ دل کا پانی جوش مارکر ایک غنچہ کی شکل میں سربستہ اوپر کو آتا ہے اور دماغ کے قریب ہوکرپھول کی طرح کھل جاتا ہے اور اس میں سے ایک کلام پیدا ہوتا ہے وہی خدا کاکلام ہے۔ پس ان تجارب صحیحہ رُوحانیہ سے ثابت ہے کہ دماغ کو علوم اور معارف سے کچھ تعلق نہیں ہاں اگر دماغ صحیح واقعہ ہو* اور ؔ اس میں کوئی آفت نہ ہو تو وہ دل کے علوم مخفیہ سے مستفیض ہوتا ہے اور دماغ چونکہ منبتِ اَعصاب ہے اس لئے وہ ایسی کَل کی طرح ہے جو پانی کو کنوئیں سے کھینچ سکتی ہے اور دل وہ کنواں ہے جوعلوم مخفیہ کا سرچشمہ ہے۔ یہ وہ راز ہے جو اہلِ حق نے مکاشفاتِ صحیحہ کے ذریعہ سے معلوم کیا ہے جس میں مَیں خود صاحبِ تجربہ ہوں۔
ایسا ہی جدید سائنس یعنی طبعی کی تحقیقات میں یہ ایک غلطی ہے کہ قطعی طورپر یہ خیال کیا گیا ہے جو ہر ایک مادی چیزوں میں جو کیڑے پڑجاتے ہیں وہ ہوا سے آتے ہیں یعنی ہوا کے کیڑے اس چیز میں داخل ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ قاعدہ کئی جگہ ٹوٹ جاتا ہے مثلاً جو نطفہ سے
*حاشیہ ۔ چونکہ دماغ منبتِ اَعصاب ہے اس لئے علوم قلبیہ کا محسوس کرنا اس کا کام ہے اور اگر دماغ میں کوئی آفت پیدا ہو تو وہ علوم پردہ میں آجاتے ہیں جیسا کہ اگر ڈول یا اس کی رسّی ناتمام ہو تو پانی کنوئیں میں سے نہیں آسکتا ۔ منہ