مشاہدہ ہے کہ کئی عجائب قدرتیں خدا تعالیٰ کی ایسے طور پر میرے دیکھنے میں آئی ہیں کہ بجز اس کے کہ اُن کو نیستی سے ہستی کہیں اور کوئی نام ان کاہم رکھ نہیں سکتے جیسا کہ ان نشانوں کی بعض مثالیں بعض موقعہ پر میں نے لکھ دی ہیں۔ جس نے یہ کرشمۂ قدرت نہیں دیکھا اُس نے کیا دیکھا ؟ ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدرتیں صرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھ نہیں بلکہ ہم اُس خدا کو مانتے ہیں جس کی قدرتیں اُس کی ذات کی طرح غیر محدود اور ناپیدا کنار اور غیر متناہی ہیں۔ ایسا ہی اُس کی قدرت کا یہ راز ہے کہ وہ نیست سے ہست کرتا ہے جیسا کہ اِس بات پر ہزاہا نمونے ہماری نظر کے سامنے ہیں۔ بعض درخت ایسے ہیں کہ اُن کے پھل جیسے جیسے پکتے جاتے ہیں وہ پردار کیڑوں کی طرح بنتے جاتے ہیں اور بعض درخت ایسے ہیں کہ اُن کے پتوں میں سے بڑے بڑے پرندے پیدا ہو جاتے ہیں اُن میں سے ایک آک کا درخت بھی ہے اور اُس کی نظیریں ہزارہا ہیں نہ صرف ایک دو۔ پس اس جگہ بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ وہ نیستی سے ہستی ہے اور یہ ایک ایساراز قدرت ہے کہ ہم اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے اور کیا یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ناچیز انسان خدا کے تمام اسرار پر اطلاع بھی پاجائے اور اس کی تمام قدرتوں پرمحیط ہو جائے۔ یہ ؔ ایک فیصلہ شدہ بات ہے کہ اگر علم سائینس یعنی طبعی خدا تعالیٰ کے تمام عمیق کاموں پر احاطہ کرلے تو پھر وہ خداہی نہیں۔ جس قدر انسان اُس کی باریک حکمتوں پر اطلاع پاتا ہے وہ انسانی علم اس قدر بھی نہیں کہ جیسے ایک سُوئی کو سمندر میں ڈبویا جائے اور اُس میں کچھ سمندر کے پانی کی تری باقی رہ جائے اور یہ کہنا کہ اُس کی تمام باریک قدرتوں پر اطلاع پانے کے لئے ہمارے لئے راہ کشادہ ہے اس سے زیادہ کوئی حماقت نہیں باوجود یکہ ہزارہا قرن اس دُنیا پر گذر چکے ہیں پھر بھی انسان نے صرف اس قدر خدا کی حکمتوں پر اطلاع پائی ہے جیسا کہ ایک عالمگیر بارش میں سے صرف اس قدر تری جو ایک بال کی نوک کو بمشکل ترکر سکے۔ پس اس جگہ اپنی حکمت اور دانائی کا دم مارنا جھوٹی شیخی اور حماقت ہے۔ انسان باوجودیکہ ہزارہا برسوں سے اپنے علوم طبعیہ اور ریاضہ کے