ناپیدا کنار ہے ایساہی اُس کے کام بھی ناپیدا کنار ہیں اور اُس کے ہر ایک کام کی اصلیت تک پہنچنا انسانی طاقت سے برتر اور بلند تر ہے ہاں ہم اُس کی صفات قدیمہ پر نظر کرکے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کبھی معطّل نہیں رہتیں اس لئے خدا تعالیٰ کی مخلوق میں قدامت نوعی پائی جاتی ہے یعنی مخلوق کی انواع میں سے کوئی نہ کوئی نوع قدیم سے موجود چلی آئی ہے مگر شخصی قدامت باطل ہے اور باوجود اس کے خدا کی صفت افناء اور اہلاک بھی ہمیشہ اپنا کام کرتی چلی آتی ہے وہ بھی کبھی معطل نہیں ہوئی اور اگرچہ نادان فلاسفروں نے بہت ہی زور لگایا کہ زمین و آسمان کے اجرام و اجسام کی پیدائش کو اپنے سائینس یعنی طبعی قواعد کے اندر داخل کرلیں اور ہر ایک پیدائش کے اسباب قائم کریں مگر سچ یہی ہے کہ وہ اس میں ناکام اور نامراد رہے ہیں اور جوکچھ ذخیرہ اپنی طبعی تحقیقات کا انہوں نے جمع کیا ہے وہ بالکل ناتمام اور نامکمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی اپنے خیالات پر قائم نہیں رہ سکے اور ہمیشہ اُن کے خود تر اشیدہ خیالات میں تغیر تبدّل ہوتا رہا ہے اور معلوم نہیں کہ آگے کس قدر ہوگا اور چونکہ اُن کی تحقیقاتوں کی یہ حالت ہے کہ تمام مدار اُن کا صرف اپنی عقل اور قیاس پر ہے اورخدا سے کوئی مدد اُن کونہیں ملتی اس لئے وہ تاریکی سے باہر نہیں آسکتے اور درحقیقت کوئی شخص خدا کو شناخت نہیں کرسکتا جب تک اس حد تک اُس کی معرؔ فت نہ پہنچ جائے کہ وہ اس بات کو سمجھ لے کہ خدا کے بیشمار کام ایسے ہیں کہ جو انسانی طاقت اور عقل اور فہم سے بالاتر اور بلند تر ہیں اور اس مرتبہ معرفت سے پہلے یا تو انسان محض دہریہ ہوتا ہے اورخدا کے وجود پر ایمان ہی نہیں رکھتا اور یا اگر خدا کو مانتا ہے تو صرف اس خداکو مانتا ہے کہ جو اُس کے خود تراشیدہ دلائل کا ایک نتیجہ ہے نہ اُس خدا کو جو اپنی تجلّی سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور جس کی قدرتوں کے اسرار اِس قدر ہیں کہ انسانی عقل اُن کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ جب سے خدا نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ خدا کی قدرتیں عجیب در عجیب اور عمیق در عمیق اور وراء الوراء لَایُدرک ہیں تب سے میں ان لوگوں کو جو فلسفی کہلاتے ہیں پکے کافر سمجھتا ہوں اور چھپے ہوئے دہریہ خیال کرتا ہوں میرا خود ذاتی