خدا تعالیٰ کی ہستی کو مانتا ہے اور ہر ایک چیز کا وجود اُس کے ارادہ سے جانتا ہے اُس کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ بغیر حکم خدا تعالیٰ کے کوئی چیز ظہور پذیر نہیں ہوسکتی اور اگر خدا کے وجود کو نہیں مانتا تو دلائل قویّہ بدیہیہ اُس کو ملزم کرتے ہیں اور اگر کہو کہ اعتراض یہ ہے کہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک د م میں خدا تعالیٰ نے سب کچھ پیدا کیا تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ قرآن شریف سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ چھ دن میں ؔ پیدا کیا اور چھ۶ دن سے مراد وہ دن نہیں ہیں جو انسانوں کے دن ہیں بلکہ بموجب تصریح قرآن شریف کے ہر ایک دن سے ہزارہا برس مراد ہیں اور اگر کہو کہ قرآن شریف سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ نے اجسام ارضی اور اجرام سماوی کو فلاں فلاں مادہ سے پیدا کیا تو یہ خدا کی قدرتوں میں بیجا دخل ہے۔ یاد رکھو کہ انسان کی ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ ان تمام دقیق در دقیق خدا کے کاموں کو دریافت کرسکے بلکہ خدا کے کام عقل اور فہم اور قیاس سے برتر ہیں۔ اورانسان کو صرف اپنے اس قدر علم پرمغرور نہیں ہونا چاہئے کہ اُس کو کسی حد تک سلسلہ علل و معلولات کامعلوم ہوگیا ہے کیونکہ انسان کا وہ علم نہایت ہی محدود ہے جیسا کہ سمندر کے ایک قطرہ میں سے کروڑم حصہ قطرہ کا* اور حق بات یہ ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ خود
*حاشیہ ۔ یہ خیال ہی سراسر حماقت ہے کہ جس قدر قانون قدرت ظاہر ہوچکا ہے اسی پر خداکے مخفی ارادوں اور مخفی قدرتوں کا قیاس کرنا چاہیئے کیونکہ قیاس کرنے کے لئے کم سے کم نسبت مساوات تو ضرور چاہیئے لیکن جس حالت میں انسان کا علم خدا کی قدرتوں کی نسبت اس قدر بھی نہیں جیسا کہ ایک سوئی کی نوک کی تری ایک بحر اعظم کے پانی سے نسبت رکھتی ہے تو پھر اس قدر قلیل علم انسان کا ان مخفی قدرتوں کے لئے معیار کیونکر ہو سکتا ہے جو غیر متناہی ہیں ۔ اگر خدا کی اسی قدر قدرتیں ہیں جو انسان کے احاطہ علم میں ہوچکی ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں تو اس صورت میں خدا محدود ہوجائے گا اور نیز اس کی قدرتیں بھی انسان کے علم سے زیادہ نہیں ہوں گی ۔ لیکن انسان کا خدا کی قدرتوں پر محیط ہونا ایسا ہے جیسا کہ خدا پر محیط ہو جانا ۔ وہ خدا جس نے انسان کو مولی گاجر کی طرح زمین سے پیدا کیا ۔ پھر اس پہلے قانون کو توڑ دیا ۔ پس اگر وہ کسی زمانہ میں اس موجودہ قانون قدرت کو بھی توڑ دے تو اس کو کون روک سکتاہے اور کس دلیل سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے تو وہ تبدیل قانون قدرت پر قادر تھا۔ مگر اب قادر نہیں ۔ منہ