کی روحانی اور جسمانی تکمیل کرتا ہے چنانچہ رُوح اور جسم کا ظہور ربوبیّت کے تقاضا سے ہے اور اسی طرح خدا کا کلام نازل ہونا اور اُس کے خارق عادت نشان ظہورمیں آناربوبیّت کے تقاضا سے ہے(۲) دوم خدا کی رحمانیّت جو ظہور میں آچکی ہے یعنی جو کچھ اُس نے بغیر پاداش اعمال بیشمار نعمتیں انسان کے لئے میسر کی ہیں یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۳) تیسری خدا کی رحیمیّت ہے اوروہ یہ کہ نیک عمل کرنے والوں کو اوّل توصفت رحمانیّت کے تقاضا سے نیک اعمال کی طاقتیں بخشتا ہے اور پھر صفت رحیمیّت کے تقاضا سے نیک اعمال اُن سے ظہور میں لاتا ہے اور اس طرح پر اُن کو آفات سے بچاتا ہے۔ یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہرکرتی ہے (۴) چوتھی صفت مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ہے یہ بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا دیتا ہے۔ یہ چاروں صفتیں ہیں جو اُس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یعنی اُس کے پوشیدہ وجود کا ان صفات کے ذریعہ سے اس دنیا میں پتہ لگتا ہے اور یہ معرفت عالم آخرت میں دو چند ہوجائے گی گویا بجائے چار ۴ کے آٹھ۸ فرشتے ہو جائیں گے۔
پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض پیش کیا کہ دُنیا کی پیدائش کا طریقہ قرآن شریف میں غلط بیان کیا گیا ہے۔ اگر اس اعتراض سے معترض کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف میں یہ لکھا ہے کہ ہر ایک چیز خدا کے حکم سے پیدا ہوئی ہے اور کسی چیز کے وجود کو خدا کے حکم کے ساتھ وابستہ کرنا علمِ طبعی کے قواعد کے برخلاف ہے تو یہ پوچ اور لغو اعتراض ہے کیونکہ جو شخص
حاشیہ صفحہ ۲۷۸۔ خدا تعالیٰ نے تمام اجرام سماوی و ارضی پیدا کرکے پھر اپنے وجود کو وراء الوراء مقام میں مخفی کیا جس کا نام عرش ہے اور یہ ایسانہاں در نہاں مقام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی چا۴ر صفات ظہور پذیر نہ ہوتیں جو سورۃ فاتحہ کی پہلی آیات میں ہی درج ہیں تو اس کے وجود کا کچھ پتہ نہ لگتا یعنی ربوبیّت۱ ۔ رحما۲نیّت ۔ رحیمیّت۳ ۔ مالک۴ یوم الجزاء ہونا ۔ سویہ چا۴روں صفات استعارہ کے رنگ میں چا۴ر فرشتے خدا کی کلام میں قرار دئیے گئے ہیں جو اس کے عرش کو اٹھا رہے ہیں یعنی اس وراء الوراء مقام میں جو خدا ہے اس مخفی مقام سے اس کو دکھلارہے ہیں ورنہ خدا کی شناخت کے لئے کوئی ذریعہ نہ تھا ۔ منہ