دیانند نے اپنی کتاب ترجمہ شدہ کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پرمیشر محدود افعال کا ثمرہ غیر محدود نہیں دے سکتا۔ پس ظاہر ہے کہ اگر وہ مالکانہ اختیار رکھتا ہے تو محدود خدمت کے عوض میں غیر محدود ثمرہ دینے میں اُس کا کیاحرج ہے کیونکہ مالک کے کاموں کے ساتھ انصاف کو کچھ تعلق نہیں۔ ہم بھی اگر کسی مال کے مالک ہوکر سوالیوں کو کچھ دیناچاہیں تو کسی سوالی کا حق نہیں کہ یہ شکایت کرے کہ فلاں شخص کو زیادہ دیا اور مجھے کم دیا۔ اِسی طرح کسی بندہ کا خدا تعالیٰ کے مقابل پر حق نہیں کہ اُس سے انصاف کا مطالبہ کرے کیونکہ جس حالت میں جو کچھ بندہ کا ہے وہ سب کچھ خدا کا ہے۔ تو نہ تو یہ بندہ کا حق ہے کہ انصاف کی رُو سے اُس سے فیصلہ چاہے اور نہ خدا کی یہ شان ہے کہ اپنی مخلوق کا یہ مرتبہ تسلیم کرلے کہ وہ لوگ اُس سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے مجاز ہیں۔ پس درحقیقت جو کچھ خدا تعالیٰ بندہ کو اُس کے اعمال کی جزائیں دیتا ہے وہ اُس کا محض انعام اکرام ہے ورنہ اعمال کچھ چیز نہیں بغیر خدا کی تائید اور فضل کے اعمال کب ہوسکتے ہیں۔ پھر ماسوا اس کے جب ہم خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کی طرف نظرڈالتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ اپنے بندوں کے لئے مہیاکیا ہے یا کرتا ہے وہ دو قسم کی بخشش ہے۔ ایک تو اس کے وہ انعام اکرام ہیں جو انسانوں کے وجود سے بھی پہلے ہیں۔ اور ایک ذرّہ انسانوں کے عمل کا اُن میں دخل نہیں جیسا کہ اُس نے انسانوں کے آرام کے لئے سورج چاند۔ ستارے۔ زمین۔ پانی۔ ہوا۔ آگ وغیرہ چیزیں پیدا کی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ ان چیزوں کو انسانوں کے وجود اور ان کے عملوں پر تقدم ہے اورانسان کا وجود ان کے وجود کے بعد ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی وہ رحمت کی قسم ہے جس کو قرآنی اصطلاح کی رُو سے رحمانیت کہتے ہیں یعنی ایسی جود وعطا جو بندہ کے اعمال کی پاداش میں نہیں بلکہ محض فضل کی راہ سے ہے۔ دو۲سری قسم رحمت کی وہ ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں رحیمیّت کہتے ہیں یعنی