عرش پر قرار پکڑا اس قرار پکڑنے سے یہ مطلب ہے کہ اگرچہ اُس نے انسان کو پیدا کرکے بہت سا قرب اپنا اُس کو دیا مگر یہ تمام تجلیات مختص الزمان ہیں یعنی تمام تشبیہی تجلیات اُس کی کسی خاص وقت میں ہیں جو پہلے نہیں تھیں مگر ازلی طور پر قرار گاہ خدا تعالیٰ کی عرش ہے جو تنزیہ کا مقام ہے کیونکہ جو فانی چیزوں سے تعلق کرکے تشبیہہ کا مقام پیدا ہوتا ہے وہ خدا کی قرار گاہ نہیں کہلا سکتا وجہ یہ کہ وہ معرضِ زوال میں ہے اور ہرایک وقت میں زوال اُس کے سر پر ہے بلکہ خدا کی قرارگاہ وہ مقام ہے جو فنا اور زوال سے پاک ہے پس وہ مقام عرش ہے۔ اِس جگہ ایک اور اعتراض مخالف لوگ پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ قرآن شریف کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے جس سے اشارۃ النَّص کے طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں چار فرشتے عرش کو اٹھاتے ہیں اور اب اس جگہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ تو اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ کوئی اُس کے عرش کو اٹھاوے۔ اس کاجواب یہ ہے کہ ابھی تم سن چکے ہو کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے جو اٹھائی جائے یا اٹھانے کے لائق ہو بلکہ صرف تنزّہ اور تقدّس کے مقام کا نام عرش ہے اسی لئے اِس کو غیر مخلوق کہتے ہیں۔ ورنہ ایک مجسم چیز خدا کی خالقیت سے کیونکر باہر رہ سکتی ہے اور عرش کی نسبت جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ سب استعارات ہیں۔ پس اسی سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسا اعتراض محض حماقت ہے۔ اب ہم فرشتوں کے اٹھانے کا اصل نکتہ ناظرین کو سناتے ہیں اوروہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے تنزّہ کے مقام میں یعنی اس مقام میں جب کہ اُس کی صفت تنزّہ اُس کی تمام صفات کو روپوش کرکے اُس کو وراء الوراء او رنہاں در نہاں کر دیتی ہے۔ جس مقام کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں عرش ہے تب خدا عقول انسانیہ سے بالاتر ہو جاتا ہے اور عقل کو طاقت نہیں رہتی کہ اُس کو دریافت کرسکے تب اُس کی چار صفتیں جن کو چار فرشتوں کے ؔ نام سے موسوم کیا گیا ہے جو دُنیا میں ظاہر ہو چکی ہیں اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہیں*۔ (۱) اوّل ربوبیّت جس کے ذریعہ سے وہ انسان * حاشیہ۔ ملاحظہ ہو صفحہ ۲۷۹