اُس پر بیٹھا ہوا ہے اسی لئے عرش کو غیر مخلوق کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ کبھی وہ مومن کے دل پر اپنی تجلّی کرتا ہے۔ ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تجلّی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہرایک چیز کو میں نے اٹھایا ہوا ہے یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی چیز نے مجھے بھی اُٹھایا ہوا ہے۔ اور عرش جو ہر ایک عالم سے برتر مقام ہے وہ اُس کی تنز یہی صفت کا مظہر ہے اور ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔ ایک صفت تشبیہی دوسری صفت تنز یہی۔ اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرنا ضروری تھا یعنی ایک تشبیہی صفت اور دوسری تنزیہی صفت اِس لئے خدا نے تشبیہی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ آنکھ محبت غضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جب کہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ3کہہ دیا اور بعض جگہ 3 کہہ دیا جیسا کہ سورہ رعد جزو نمبر ۱۱ میں بھی یہ آیت ہے 33 ۱ (ترجمہ) تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا۔ اِس آیت کے ظاہری معنی کے رُو سے اِس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا۔ اِس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء الوراء ہونے کی ایک حالت ہے جو اُس کی صفت ہے پس جبکہ خدا نے زمین و آسمان اور ہرایک چیز کو پیدا کیا اور ظلّی طور پر اپنے نور سے سورج چاند اور ستاروں کو نور بخشا اور انسان کو بھی استعارہ کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونک دئیے تو اس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیہہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہرایک تشبیہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے تنزّہ کا ذکر کردیا۔ خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیداؔ کرکے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور وراء الوراء مقام پرہے اور پھر سورۃ طٰہٰ جزو نمبر ۱۶ میں یہ آیت ہے 3 ۲ (ترجمہ) خدا رحمن ہے جس نے