حالت میں پیدا ہو جاتا ہے مگر خدا اِن تغیرات سے پاک ہے اور اُس کا غضب ان معنوں سے ہے کہ وہ اس شخص سے جو شرارت سے باز نہ آوے اپنا سایہ حمایت اٹھا لیتا ہے اور اپنے قدیم قانون قدرت کے موافق اُس سے ایسا معاملہ کرتا ہے جیسا کہ ایک غضبناک انسان کرتا ہے لہٰذا استعارہ کے رنگ میں وہ معاملہ اُس کا غضب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی اُس کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں کیونکہ انسان غلبہ محبت میں بھی دُکھ اٹھاتا ہے اور محبوب کے علیٰحدہ اور جُدا ہونے سے اُس کی جان کو تکلیف پہنچتی ہے مگر خدا ان تکالیف سے پاک ہے ایسا ہی اُس کا قرب بھی انسان کے قرب کی طرح نہیں کیونکہ انسان جب ایک کے قریب ہوتا ہے تو اپنے پہلے مرکز کو چھوڑ دیتا ہے مگر وہ باوجود قریب ہونے کے دور ہوتا ہے اور باوجود دور ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کی ہر ایک صفت انسانی صفات سے الگ ہے اور صرف اشتراک لفظی ہے اس سے زیادہ نہیں اسی لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ 3۱؂ یعنی کوئی چیز اپنی ذات یا صفات میں خدا تعالیٰ کے برابر نہیں۔ اب ناظرین با انصاف پر ظاہر ہو کہ اسی مطلب کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ 333۲ ؂ یعنی خدا وہ ہے جس نے سب کچھ چھ۶ دن میں پیدا کرکے پھر اپنے مقام وراء الوراء کی طرف توجہ کی*اور عرش پر قرا ر پکڑا۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ عرش سے مراد قرآن شریف میں ؔ وہ مقام ہے جو تشبیہی مرتبہ سے بالا تر اور ہر ایک عالم سے برتر اور نہاں در نہاں اور تقدّس اور تنزّہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خدا *حاشیہ ۔ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس آیت سے مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی تشبیہی صفات کا اظہار فرماکر پھر اس مقام کی طرف توجہ کی جو بے مثل و مانند ہونے کا مقام ہے جس کو زبان شرع میں عرش کہتے ہیں جو تمام عالموں سے بر تر اور وہم و خیال سے بلند تر ہے اور عرش کوئی مخلوق چیز نہیں ہے بلکہ محض وراء الوراء مقام کا نام عرش ہے جس سے مخلوق کو کوئی اشتراک نہیں ۔ منہ