کا ہونا ضروری ہے اور چونکہ صفت ایجاد اور صفت اِفْنَاء باہم متضاد ہیں اس لئے جب اِفْنَاء کی صفت کا ایک کامل دور آجاتا ہے تو صفت ایجاد ایک میعاد تک معطّل رہتی ہے۔ غرض ابتدا میں خدا کی صفتِ وحدت کا دَور تھا اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس دور نے کتنی دفعہ ظہور کیا بلکہ یہ دَور قدیم اور غیر متناہی ہے بہرحال صفتِ وحدت کے دَور کو دُوسری صفات پر تقدّم زمانی ہے پس اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں خدا اکیلا تھا اور اُس کے ساتھ کوئی نہ تھا اور پھر خدا نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ اُ ن میں ہے پیدا کیا اور اسی تعلق کی وجہ سے اُس نے اپنے یہ اسماء ظاہر کئے کہ وہ کریم اور رحیم ہے اورغفور اور توبہ قبول کرنے والا ہے مگر جو شخص گناہ پر اصرار کرے اور باز نہ آوے اُس کو وہ بے سزا نہیں چھوڑتا اور اُس نے اپنا یہ اسم بھی ظاہر کیا کہ وہ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور اُس کا غضب صرف انہیں لوگوں پر بھڑکتا ہے جو ظلم اورشرارت اورمعصیت سے باز نہیں آتے اور اُس نے اپنی یہ صفات اپنی کتاب میں بیان فرمائیں کہ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور محبت کرتا ہے اور غضب کرتا ہے اور اپنے ہاتھ اور پیر اور آنکھ اور کان کا بھی ذکر کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اُس کا دیکھنا انسان کے دیکھنے کی طرح نہیں اور اُس کا سننا انسان کے سننے کی طرح نہیں اور اس کا محبت کرنا انسان کے محبت کرنے کی طرح نہیں اور اُس کا غضب انسان کے غضب کی طرح نہیں اور اُس کے ہاتھ پیر اور آنکھ کان مخلوق کے اعضاء کی طر ح نہیں بلکہ وہ ہر ایک بات میں بے مثل ہے اور بار بار صاف فرمادیا کہ یہ اُس کی تمام صفات اُس کی ذات کے مناسب حال ہیں انسان کی صفات کی مانند نہیں اور اُس کی آنکھ وغیرہ جسم اور جسمانی نہیں اور اُس کی کسی صفت کو انساؔ ن کی کسی صفت سے مشابہت نہیں مثلاً انسان اپنے غضب کے وقت پہلے غضب کی تکلیف آپ اُٹھاتا ہے اور جوش و غضب میں فوراً اُس کا سرور دور ہوکر ایک جلن سی اُس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایک مادّہ سوداوی اُس کے دماغ میں چڑھ جاتا ہے اور ایک تغیر اس کی