ہو یاآسمان میں وہ سب اُسی کا ہے اور اُسی سے ظہور پذیر اور قیام پذیر ہے کون ہے جو بغیر اُس کے حکم کے اُس کے آگے شفاعت کرسکتا ہے وہ جانتا ہے جو لوگوں کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے یعنی اُس کا علم حاضر اور غائب پر محیط ہے اور کوئی اُس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کرسکتا لیکن جس قدر وہ چاہے۔ اُس کی قدرت اور علم کا تمام زمین و آسمان پر تسلط ہے۔ وہ سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ نہیں کہ کسی چیز نے اُس کو اُٹھا رکھا ہے اوروہ آسمان و زمین اور اُن کی تمام چیزوں کے اٹھانے سے تھکتا نہیں اور وہ اس بات سے بزرگ تر ہے کہ ضعف و ناتوانی اور کم قدرتی اُس کی طرف منسوب کی جائے۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے 33 ۱؂ ۔(ترجمہ) تمہارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ۶ دن میں پیدا کیا پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا یعنی اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کرکے اور تشبیہی صفات کا ظہور فرماکر پھر تنز یہی صفات کے ثابت کرنے کے لئے مقام تنزّہ اور تجرّد کی طرف رُخ کیا جو وراء الوراء مقام اور مخلوق کے قرب وجوار سے دور تر ہے وہی بلند تر مقام ہے جس کو عرش کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ پہلے تو تمام مخلوق حیّز عدم میں تھی اورخدا تعالیٰ وراء الوراء مقام میں اپنی تجلیات ظاہر کر رہا تھا جس کا نام عرش ہے یعنی وہ مقام جو ہر ایک عالم سے بلند تر اور برتر ہے اور اسی کا ظہور اور پرتو تھا اور اُس کی ذات کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا اور جب مخلوق ظاہر ہوئی تو پھر اُس نے اپنے تئیں مخفی کرلیا اور چاہا کہ وہ ان مصنوعات کے ذریعہ سے شناخت کیاجائے۔ مگر یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دائمی طور پر تعطّل صفاتِ الٰہیہ کبھیؔ نہیں ہوتا اور بجز خدا کے کسی چیز کے لئے قدامت شخصی تو نہیں مگر قدامت نوعی ضروری ہے اور خدا کی کسی صفت کے لئے تعطّل دائمی تو نہیں مگر تعطّل میعادی