صفات سے کسی کے دل میں شبہ پیدا ہوسکتا تھاکہ گویا انسان ان صفات میں خدا سے مشابہ ہے اور خدا انسان سے مشابہ ہے اس لئے خدا نے ان صفات کے مقابل پر قرآن شریف میں اپنی تنز یہی صفات کا بھی ذکر کردیا یعنی ایسی صفات کا ذکر کیا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کو اپنی ذات اور صفات میں کچھ بھی شراکت انسان کے ساتھ نہیں اور نہ انسان کو اس کے ساتھ کچھ مشارکت ہے۔ نہ اُس کا خَلَقْ یعنی پیدا کرنا انسان کے خَلَقْ کی طرح ہے نہ اُس کا رحم انسان کے رحم کی طرح ہے نہ اُس کا غضب انسان کے غضب کی طرح ہے نہ اُس کی محبت انسان کی محبت کی طرح ہے نہ وہ انسان کی طرح کسی مکان کا محتاج ہے۔
اور یہ ذکر یعنی خدا کا اپنی صفات میں انسان سے بالکل علیحدہ ہونا قرآن شریف کی کئی آیات میں تصریح کے ساتھ کیا گیا ہے جیسا کہ ایک یہ آیت ہے 33 ۱ یعنی کوئی چیز اپنی ذات اور صفات میں خدا کی شریک نہیں اوروہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے اور پھر ایک جگہ فرمایا۔3 3 3۔33۔3 3۔33 ۲ ۔ ترجمہ۔ حقیقی وجود اور حقیقی بقا اور تمام صفات حقیقیہ خاص خدا کے لئے ہیں کوئی اُن میں اُس کا شریک نہیں وہی بذاتہٖ زندہ ہے اور باقی تمام زندے اُس کے ذریعہ سے ہیں۔ اور وہی اپنی ذات سے آپ قائم ہے اور باقی تمام چیزوں کا قیام اُس کے سہارے سے ہے اور جیسا کہ موت اُس پرجائز نہیں ایسا ہی ادنیٰ درجہ کا تعطّل حواس بھی جو نیند اور اُونگھ سے ہے وہ بھی اُس پر جائز نہیں مگر دوسروں پر جیساکہ موت وارد ہوتی ہے نیند اورؔ اونگھ بھی وارد ہوتی ہے۔ جو کچھ تم زمین میں دیکھتے