قصّہ کے طور پر خدا کانام لیتا ہے مگر قرآن شریف اس محبوب حقیقی کاچہرہ دکھلا دیتا ہے اور یقین کانور انسان کے دل میں داخل کر دیتا ہے اوروہ خدا جو تمام دنیا پر پوشیدہ ہے وہ محض قرآن شریف کے ذریعہ سے دکھائی دیتا ہے۔
پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیاکہ اس میں لکھا ہے کہ خدا عرش پرکُرسی نشین ہے۔ اس لغو اعتراض کاجواب پہلے ہم مبسوط اور مفصل طور پر لکھ آئے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے عاجز انسانوں کو اپنی کامل معرفت کا علم دینے کے لئے اپنی صفات کو قرآن شریف میں دو رنگ پر ظاہر کیا ہے۔(۱) اوّل اس طور پر بیان کیا ہے جس سے اُس کی صفات استعارہ کے طریق پر مخلوق کی صفات کی ہم شکل ہیں جیسا کہ وہ کریم رحیم ہے محسن ہے اور وہ غضب بھی رکھتا ہے اور اُس میں محبت بھی ہے اور اُس کے ہاتھ بھی ہیں اور اُس کی آنکھیں بھی ہیں اور اس کی ساقین بھی ہیں اور اُس کے کان بھی ہیں اور نیز یہ کہ قدیم سے سلسلہ مخلوق کا اُس کے ساتھ چلا آیا ہے مگر کسی چیز کو اُس کے مقابل پر قدامت شخصی نہیں ہاں قدامت نوعی ہے۔ اور وہ بھی خدا کی صفت خلق کے لئے ایک لازمی امر نہیں کیونکہ جیسا کہ خَلَقْ یعنی پیدا کرنا اُس کی صفات میں سے ہے ایسا ہی کبھی اور کسی زمانہ میں تجلی و حدت اور تجرد اس کی صفات میں سے ہے اور کسی صفت کے لئے تعطّل دائمی جائز نہیں ہاں تعطّل میعادی جائز ہے۔
غرض چونکہ خدا نے انسان کو پیدا کرکے اپنی اُن تشبیہی صفات کو اس پر ظاہر کیا جن صفات کے ساتھ انسان بظاہر شراکت رکھتا ہے جیسے خالق ہونا کیونکہ انسان بھی اپنی حد تک بعض چیزوں کا خالق یعنی موجد ہے۔ ایسا ہی انسان کو کریم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک کرم کی صفت بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور اسی طرح انسان کو رحیم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک قوت رحم بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور قوتِ غضب بھی اُس میں ہے اور ایسا ہی آنکھ کان وغیرہ سب انسان میں موجود ہیں۔ پس اِنؔ تشبیہی