اختیار کرنا اس پر ایک دلیل بھی ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا چونکہ وید میں کوئی ذاتی روشنی نہیں ہے اور نہ کوئی ذاتی معجزانہ طاقت ہے اور صرف ایسی باتیں ہیں جو دوسری کتابوں سے نقل ہوسکتی ہیں اس لئے وید کا اس الزام سے بری ہونا مشکل ہے خاص کر ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ وید میں اگنی کی پوجا فارس کے گبروں سے لی گئی ہے اسی طرح رگوید کی بہت سی تعلیمیں ژند کی تعلیم کی سرقہ معلوم ہوتی ہیں لیکن قرآن شریف تو بجائے خود ایک عظیم الشان معجزہ ہے اور نہ صرف معجزانہ بلاغت و فصاحت رکھتا ہے بلکہ معجزات اور پیشگوئیوں سے بھرا ہوا ہے اور جن قوی دلائل سے وہ خدا تعالیٰ کے وجودکا ثبوت دیتا ہے وہ ثبوت نہ توریت کی رُو سے مل سکتا ہے نہ انجیل کی رو سے حاصل ہوسکتا ہے* اور جو کچھ عالم معاد کی نسبت قرآن شریف نے بیان کیا ہے وہ معارف و حقائق نہ توریت میں پائے جاتے ہیں نہ انجیل میں نہ کسی اورکتاب میں۔ اور جس قدر قرآن شریف میں قصے ہیں وہ بھی درحقیقت قصے نہیں بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو قصوں کے رنگ میں لکھی گئی ہیں ہاں وہ توریت میں تو ضرور صرف قصے پائے جاتے ہیں مگر قرآن شریف نے ہر ایک قصہ کو رسول کریم کے لئے اور اسلام کے لئے ایک پیشگوئی قرار دے دیاہے اور یہ قصوں کی پیشگوئیاں بھی کمال صفائی سے پوری ہوئی ہیں۔ غرض قرآن شریف معارف و حقائق کا ایک دریا ہے اور پیشگوئیوں کا ایک سمندر ہے۔ اور ممکن نہیں کہ کوئی انسان بجز ذریعہ قرآن شریف کے پورے طور پر خدا تعالیٰ پر یقین لاسکے کیونکہ یہ خاصیت خاص طور پر قرآن شریف میں ہی ہے کہ اُس کی کامل پیروی سے وہ پردے جو خدا میں اور انسان میں حائل ہیں سب دور ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک مذہب والامحض *حاشیہ ۔ قرآن شریف کی معجزانہ تاثیرات سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی کامل پیروی کرنے والے درجہ قبولیت کا پاتے ہیں اور ان کی دعائیں قبول ہو کر خدا تعالےٰ اپنی کلام لذیذ اور پُر رُعب کے ذریعہ سے ان کو اطلاع دیتا ہے اور خاص طور پر دشمنوں کے مقابل پر ان کی مدد کرتاہے اور تائید کے طور پر اپنے غیب خاص پر ان کو مطلع فرماتا ہے ۔ منہ