قرآؔ ن شریف وہ کتاب ہے جو عین ضرورت کے وقت آئی اور ہر ایک تاریکی کو دُور کیا اور ہر ایک فساد کی اصلاح کی اور توریت و انجیل کے غلط اور محرّف بیانات کو رد کیا اورعلاوہ معجزات کے توحید باری پر عقلی دلائل قائم کیں۔ تو اب یہ لوگ ہمیں بتلاویں کہ قرآن شریف نے کس بات میں توریت و انجیل کی نقل کی ؟ کیا قرآن شریف کی تعلیم وہی ہے جو توریت کی تعلیم ہے ؟ کیا توریت کی طرح قرآن شریف کا یہ حکم ہے کہ ضرور دانت کے بدلے دانت نکال دو یا آنکھ کے بدلے آنکھ نکال دو یا کیا قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ شراب پی لیا کرو؟ یا یہ حکم ہے کہ بجز اپنی قوم کے دُوسروں سے سُود لے لیاکرو ؟
اور کیا عیسائیوں کے عقیدہ کی طرح قرآن شریف بھی حضرت عیسیٰ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتا ہے؟ یا شراب پینے کا فتویٰ دیتا ہے یا یہ تعلیم دیتاہے کہ بہرحال بدی کا مقابلہ نہ کرو ؟ پس یہ کس قدر خباثت اور بدذاتی ہے کہ قرآن شریف کو توریت اور انجیل کی نقل قرار دیا جاتا ہے اگر قرآن شریف توریت و انجیل کی نقل ہے تو پھر اس قدر اسلام اور ان فرقوں میں اختلاف کیوں پیدا ہوئے ؟ اس صورت میں تو اسلام عین یہودیت اور یاعین عیسائیت ہونا چاہئے تھا (نقل جو ہوئی) اور اگر یہی حالت تھی کہ قرآن شریف توریت اور انجیل کی تعلیم کی نقل ہے تو کیوں یہودیوں اور عیسائیوں نے اس قدر اسلام کو مغائرت کی نظر سے دیکھا اور اس قدر مقابلہ سے پیش آئے کہ خون کی ندیاں بہ گئیں ؟ ہاں یہ سچ ہے کہ دُنیا کے تمام مذاہب بعض باتوں اور بعض احکام میں مشترک ہوتے ہیں۔ مگر کیا ہم اس اشتراک کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ بعض بعض کی نقل ہیں۔ مثلاً ہر ایک مذہب کی یہی تعلیم ہے کہ جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹی گواہی نہ دو۔ چوری نہ کرو۔ ناحق کا خون نہ کرو۔ لوگوں سے ہمدردی کرو پس اگر اس توارد کی وجہ سے کسی کتاب پر چوری کا الزام آسکتا ہے تو پھر وید اس الزام سے کہاں بری ٹھہر سکتا ہے۔ مجوسیوں کا اب تک یہ الزام چلا آتا ہے کہ وید اُن کی پاک کتابوں کے مضامین چوراکر لکھا گیا ہے اور بیاس کا ایران پہنچنا اورؔ ان بزرگوں کی شاگردی