توریت انجیل کو تو الگ رہنے دو۔ وید جس کی اشاعت کی نسبت کروڑوں برسوں کا دعویٰ کیاؔ جاتا ہے اُس نے اتنی مدت میں کیا بنایا اور خواہ نخواہ اگنی۔ وایو۔ پانی اور چاند۔ سورج کی عظمتیں بیان کرکے آریہ ورت کے لوگوں کو عناصر پرست اور آفتاب پرست بنادیا۔ بھلا کوئی بتلاوے کہ اگر آریہ ورت میں اِس آتش پرستی اور آفتاب پرستی اور گنگا وغیرہ کی پوجا کی اصل جڑھ وید نہیں ہے تو پھر وہ کونسی کتاب ہے جس نے یہ گند آریہ ورت میں پھیلا دیا؟ ہر ایک دانشمند رگوید کا پہلا صفحہ ہی دیکھ کر بلکہ پہلی سطر ہی دیکھ کر ضرور اس بات کا اقرار کرے گا کہ بلاشبہ یہ سب گند وید کے ذریعہ سے ہی پھیلا ہے وید نے ایک جگہ بھی یہ بیان نہیں کیا کہ ان چیزوں کی پرستش نہ کرو۔ اگر فرض کے طور پر یہ سب پرمیشر کے نام تھے تو وید نے اس تصریح سے کیوں اپنا منہ پھیر رکھا؟ اور کیوں خواہ نخواہ لوگوں کو ہلاک کیا۔ آخر قرآن شریف ہی تھا جس نے وید کی تعلیم پر حملہ کر کے بلند آواز سے کہا 33 ۱؂ ترجمہ۔ یعنی تم نہ سورج کی پوجا کرو اور نہ چاند کی پوجا کرو بلکہ اس ذات کی پوجا کرو جس نے ان سب چیزوں کو پید ا کیا۔ ایسا ہی دوسری طرف قرآن شریف نے بار بار عیسائیوں کو سمجھایا کہ مسیح ابن مریم صرف خدا کا رسول ہے تم خواہ نخواہ اُس کو خدامت بناؤ۔ پھر مجوسیوں کو اُن کے شرک اور آتش پرستی سے روکا اور سب کو خدائے واحد کی طرف بلایا اور اپنا کام کرکے دکھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک انتقال فرما نہ ہوئے جب تک ہر ایک قسم کے شرک اور بت پرستی سے عرب کے جزیرہ نما کو صاف نہ کردیا اور باقی ماندہ ممالک کو ا پنے خلفاء کے ذریعہ سے مخلوق پرستی سے نجات دی اور یہ کامیابی کسی کو حاصل نہیں ہوئی اورآریہ ورت پر بھی قرآن شریف کا ہی احسان ہے کہ یہ ملک جو مخلوق پرستی سے پُر ہوچکا تھا اور اُس کی حالت ایک متعفن مردار کی طرح ہوگئی تھی اُس نے اسی قوم میں سے کئی کروڑ موحد پیدا کر دئیے پھر بھی کفر انِ اِحسان کرتے ہیں یہ اُن کا خاصۂ فطرت ہے۔