میں اللہ تعالیٰ کو یاد کریں اور اُس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور اپنے گناہ پر اصرار نہ کریں اُن کا خداآمرز گار ہوگا اور گنہ بخش دے گا۔
پس ان تمام آیتوں سے ظاہر ہے کہ جیسے خدا انسان کا اس طور سے مالک ہے کہ اگر چاہے تو اُس کے گناہ پر اُس کو سزا دے۔ ایسا ہی اِس طور سے بھی اُس کا مالک ہے کہ اگرچاہے تو اُس کا گناہ بخش دے کیونکہ ملکیّت تبھی متحقق ہوتی ہے کہ جب مالک دونوں پہلوؤں پر قادر ہو بلکہ ان تمام آیات سے بڑھ کر ایک اور آیت ہے اور وہ یہ ہے:۔ 3 3 ۱ یعنی اے وہ لوگو جنہوں نے اسراف کیا یعنی گناہ کیا تم خدا کی رحمت سے نوامید مت ہو وہ تمہارے سارے گناہ بخش دے گا یعنی وہ اِس بات سے مجبور اورعاجز نہیں کہ گنہ گار کو بغیر سزادینے کے چھوڑ دے کیونکہ وہ اس کا مالک ہے اور مالک کو ہر ایک اختیار ہے۔ یہ تو وہ قادر اور کریم خدا ہے جس کو قرآن شریف نے ہم پر ظاہر کیا اور اس کے کرم اور عفو کی صفتیں ہمیں سنائیں لیکن آریوں کا پرمیشر اپنی حیثیت کی رو سے ایک مجسٹریٹ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا جو جرم اور عدم جرم کی بنا پر سزا دیتا یا بری کرتا ہے مالکانہ اختیار اُس کو کچھ بھی حاصل نہیں یہاں تک کہ نعوذ باللہ وہ انسان سے بھی گیا گزرا ہے مثلاً ہم اپنے خطا کار نوکر کا گنہ بخش سکتے ہیں مگر آریوں کا پرمیشر اپنے کسی گنہ گار کا گنہ بخش نہیں سکتا۔ ایسا ہی ہم اپنے نوکر کی خدمات کے علاوہ جس قدر چاہیں بطور جودو احسان اُس کو دے سکتے ہیں مگر آریوں کا پرمیشر اپنے پرستار کو اُس کے حق واجب سے زیادہ کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ اِسی وجہ سے وہ دائمی مکتی نہیں دے سکتا۔
پنڈت دیانند کی ستیارتھ پرکاش اُردو کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پرمیشر کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا ایسا کرے تو بے انصاف ٹھہرتا ہے پس اُس نے مان لیا ہے کہ پرمیشر محض ایک جج کی طرح ہے مالکانہ حیثیت اُس کو حاصل نہیں۔ ایسا ہی پنڈت