آنے پائے یہ تجویز سب نے پسند کی اور قریش رات ہوتے ہی محمد صاحب کے گھر کے آگے ڈٹ گئے کہ جس وقت وہ دروازہ سے نکلیں یہیں اُن کا ڈھیر کردیا جائے مگر کسی جاں نثار خادم نے آپ کو وقت پر خبر کردی آپ پچھلی طرف سے کود کر ابوبکر کے ہاں چلے گئے اور وہاں سے دونوں راتوں رات بھاگ کر ایک غار میں پناہ گزین ہوئے۔
علی الصّباح جب قریش نے دیکھا کہ محمد ؐ صاحب بھاگ گئے* اوروہ اپنے ارادہ میں
*حاشیہ ۔ یاد رہے کہ پا۵نچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا اگر آنجناب درحقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرورہلاک کئے جاتے ۔ ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیااور قسمیں کھالی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے (۲) دوسرا وہ موقعہ تھا جبکہ کافر لوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حضرت ابوبکر کے چھپے ہوئے تھے ( ۳) تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جب کہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلواریں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی یہ ایک معجزہ تھا۔ (۴) چوتھا وہ موقعہ تھا جب کہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دیدی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا(۵)پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جبکہ خسروپرویز شاہِ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھااور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے* ۔ پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان تمام پُرخطرموقعوں سے نجات پا نا اور ان تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہوجاناایک پڑی زبردست دلیل اس بات پر ہے کہ درحقیقت (بقیہ حاشیہ صفحہ۲۳۶پر دیکھیں)
*حاشیہ در حاشیہ ۔ یہ عجیب بات ہے کہ میرے لئے بھی پانچ موقعے ایسے پیش آئے تھے جن میں عزت اور جان نہایت خطرہ میں پڑ گئی تھی ( ۱) اول وہ موقع جب کہ میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلارک نے خون کا مقدمہ کیا تھا ( ۲) دوسرے وہ موقع جب کہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورکی کچہری میں میرے پر چلایا تھا (۳) تیسرے وہ فوجداری مقدمہ جو ایک شخص کرم الدین نام نے بمقام جہلم میرے پر کیا تھا (۴) چھوتے وہ فوجداری مقدمہ جو اسی کرم دین نے گورداسپور میں میرے پر کیا تھا (۵) پانچویں جب لیکھرام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی کی گئی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگایا تھا تا میں قاتل قرار دیا جاؤں ۔ مگر وہ تمام مقدمات میں نامراد رہے ۔ من المؤلف