ان تمام تقریروں اور مباحثہ کے بعد نجاشی صداقت کا قائل ہوگیا تھا اور کہا کہ اگر مہمات شاہی مہلت دیتیں تو میں خود عرب کو جاتا اور اس شاہِ عرب کا چاکر بنتا۔ اس طرف ابوطالب کے مرنے کے بعد قریش نے آپ کو بہت دُکھ دینا شروع کیا تب آپ نے یہ ٹھانی کہ آؤ اس شہر سے طائف کو چلیں اوروہاں کے لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں چنانچہ آپ زید بن حارث کو اپنے ساتھ لے کر طائف کو چلے۔ تقدیر کی بات ہے وہاں کے لوگ آپ کی وعظ سے ایسے برافروختہ ہوئے کہ انہوں نے آپ کو وہاں ٹھہرنے تک کی اجازت نہ دی اور پتھر روڑے اور اینٹیں مار مارکر اور لڑکے پیچھے لگاکر اسی وقت شہر سے نکال دیا۔ آپ کے پاؤں ٹخنے پنڈلیاں پتھروں سے زخمی ہوگئیں۔ پنڈلیوں کا خون پونچھتے جاتے تھے اور آبدیدہ ہوکر اپنے خدا کی درگاہ میں نہایت عاجزی سے دعا کرنے لگے۔ کہ اے خداوند ! میں اپنے ضعف و ناتوانی اور مصیبت اور پریشانی کاحال تیرے سوا کس سے کہوں مجھ میں صبر کی طاقت اب تھوڑی رہ گئی ہے مجھے اپنی مشکل حل کرنے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آتی۔ میں سب لوگوں میں ذلیل اور رُسوا ہوگیا ہوں تیرا نام ارحم الراحمین ہے تو رحم فرما۔ غرض آنحضرت وہاں سے ناکام آئے اُس وقت قریش نے طیش میں آکر مکہ کے دار الندوہ میں جو اُن کا کمیٹی گھر تھا ایک جلسہ کیا جس میں قریش مکہ اور آس پاس کے قبیلوں کے کل سردار جمع ہوئے اتنا جم غفیر اس سے پہلے اس مطلب کے لئے مکہ میں کبھی جمع نہیں ہوا تھا۔ ابؔ ہر ایک شخص اپنی اپنی رائے ظاہر کرتا تھا کہ محمد صاحب کو عمر بھر کے لئے قید کرنا چاہئے کوئی کہتا تھا کہ اِسے جلاوطن کرنا چاہیئے مگر فیصلہ اس پر ہوا کہ انہیں قتل کر کے ملک کو مصیبتوں سے نجات دینی چاہیئے۔ اور ابوجہل نے یہ تجویز پیش کی کہ بہت سے آدمی مل کر ایک ہی دفعہ محمد ؐ صاحب کے سینہ میں خنجر ماریں تاکہ قتل کا الزام کسی شخص پر نہ