ناکام رہے تو مارے غصہ کے دیوانہ ہوگئے اور ہر طرف اُن کی تلاش کرنے لگے انہوں نے یہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص محمد ؐ صاحب کا سر کاٹ کر لائے گا اُس کو سو۱۰۰ اونٹ انعام دیاؔ جائے گا۔چاروں طرف سے اُن کی جان کے پیاسے تلاش میں پھرتے تھے۔ ایک دفعہ دشمن اُس غار کے منہ تک بھی پہنچ گئے ابوبکر کادل لوگوں کے پاؤں کی آہٹ سے بہت گھبرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف دو آدمی ہیں اب ضرور مارے جائیں گے مگر محمدؐ صاحب نے اُن کو تسلی دی اور کہا نہیں ہم دو نہیں ہیں بلکہ تین ہیں اور تیسرا ہمارے ساتھ وہ ہے جو سب سے زیادہ زور آور اور صاحب طاقت ہے۔ حقیقت میں وہ تیسرا اُن کے ساتھ تھا*۔
پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآن بائبل کی نقل ہے اس سے ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی بیباکی اور دروغ گوئی میں کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے دنیا میں کوئی شخص اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ قرآن شریف تیئس۲۳ برس برابر یہود و نصاریٰ کے رُوبرو اترتا رہا مگر کسی نے یہ اعتراض نہ کیا کہ قرآن شریف بائبل کی نقل ہے او ر خود ظاہر ہے کہ
بقیہ حاشیہ صفحہ۲۳۶۔ آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا اور یہ قول برہمو صاحب کا کہ جب گھر کا قتل کے لئے محاصرہ کیا گیا تو کسی جاں نثار خادم نے آپ کو اطلاع دے دی تھی یہ قول صحیح نہیں ہے بلکہ وہ خدا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا اس نے خود اطلاع دی تھی ۔ چونکہ برامھ مذہب اس معرفت کی منزل تک نہیں پہنچا کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی طرف سے وحی ہوا کرتی ہے ۔ لہٰذا انہوں نے ایسا ہی لکھ دیا ۔ من المؤلف
*حاشیہ ۔ یہ خوب سوچ لینا چاہئے کہ کس قدر ظالم طبع کافروں کی شرارت بڑھ گئی تھی اور کیسے وہ ایک معصوم بے گناہ کے خون کے پیاسے ہوگئے تھے ۔ یہ واقعہ برہمو صاحب کی کتاب سوانح عمری کے صفحہ۵۷ میں لکھا ہے جس کو ہم نے اس جگہ انہیں کی کتاب کی عبارت میں نقل کردیاہے ا ور یہ تحریر صرف انہیں کے ہاتھ سے نہیں نکلی بلکہ ان سے پہلے بہت سے فاضل انگریزوں نے جو پادری نہ تھے ان تمام حالات کو بہ تفصیل بیان کیا ہے کہ کیسی تیرہ۱۳ برس تک اہل اسلام کے مردوں اور عورتوں نے کافروں کے ہاتھ سے تکلیفیں اٹھائیں اور بہت سے لوگ بھیڑوں بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے افسوس کہ اس زمانہ کے ظالم طبع دشمنِ اسلام ان واقعات کو چھپانا چاہتے ہیں ۔ من مؤلف ہٰذاالکتاب