اوررحم سے ہمیں امید ہے کہ تو ہم غریبوں پر ظلم نہ ہونے دے گا۔ جعفر نے اِس رقت بھرے دل سے اس تقریر کو ادا کیا کہ نجاشی پر اُس کا بہت اثر ہوا اور اُس کا دل اُس رسول عربی کی کچھ تعلیم سننے کا آرزو مند ہوا۔ اُس نے جعفر کو کہا کہ جو کلام تمہارے نبی پر اُترا ہے اس میں سے بھی کچھ پڑھ کر سناؤ تب جعفر نے سورۂ مریم کی چند ابتدائی آیتیں جو ولادت مسیح کے باب میں تھیں پڑھ کر سنائیں*۔ انؔ آیتوں کو سن کر نیک دل شاہِ حبش کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور دل سوزاں وہ بول اُٹھا کہ یہ اُسی نور کی شعاعیں ہیں جس کا جلوہ موسیٰ پر ہوا تھا یہ کہہ کر اس نے مظلوم مسلمانوں کو دشمنوں کے سپرد کرنے سے انکار کردیا وہ بار بار جعفر سے پوچھتا تھا کہ تم مسیح کی نسبت کیا عقیدہ رکھتے ہو۔ جعفر کہتے کہ وہ ایک برگزیدہ بندۂ خدا تھا جسے اللہ نے اپنا نبی اور رسول بنا کر بنی اسرائیل کے لئے بھیجا تھا۔ *حاشیہ ۔ میں نے یہ بھی ایک روایت میں دیکھا ہے کہ کفار قریش نے شاہ حبشہ کو افروختہ کرنے کے لئے یہ بھی اس کے آگے کہہ دیا تھا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ کو گالیاں دیتے اور توہین کرتے ہیں اور ان کا وہ درجہ نہیں مانتے جو آپ کے نزدیک مسلّم ہے مگر نجاشی نے جس کو حق کی خوشبو آرہی تھی ان لوگوں کی شکایت کی طرف کچھ توجہ نہ کی ۔ مجھے تعجب ہے کہ وہی شکایتیں جو کفار قریش نے حضرت مسیح کا نام لے کر مسلمانوں کو گرفتار کرانے کے لئے نجاشی کے سامنے کی تھیں بعینہٖ وہ تہمتیں اس وقت کے مخالف مسلمان ہم پر کر رہے ہیں اگر ہم نے یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہوگئے ہیں تو اس میں ہماراکیا گناہ ہے ؟ ہمارے وجود سے صد ہابرس پہلے خدا تعالےٰ ان کی موت قرآن شریف میں ظاہر کر چکا ہے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں ان کو فوت شدہ نبیوں میں دیکھ چکے ہیں ۔ عجیب تر تو یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب ان کی موت کے قائل بھی ہو چکے ہیں اور کتاب تاریخ طبری کے صفحہ ۷۳۹ میں ایک بزرگ کی روایت سے حضرت عیسیٰ کی قبرکا بھی حوالہ دیا ہے جو ایک جگہ دیکھی گئی یعنی ایک قبر پر پتھر پایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ عیسی ٰ کی قبر ہے ۔ یہ قصہ ابن جریرنے اپنی کتاب میں لکھا ہے جو نہایت معتبر اور اَئمہ حدیث میں سے ہے مگر افسوس! کہ پھر بھی متعصب لوگ حق کو قبول نہیں کرتے ۔ من مؤلف ھٰذاالکتاب