وہ ہمارے بھاگے ہوئے غلام ہیں اور ہمیں اُن کی گرفتاری کاحق حاصل ہے۔
شاہ حبشہ نے ان جلاوطنوں کو اپنے روبرو طلب کیا اور اُن کے دشمنوں نے جو کچھ بیان کیا تھا وہ پیش کیا تب جعفر ابن ابی طالب جو حضرت علیؓ کے حقیقی بھائی تھے بادشاہ کی خدمت میں آگے بڑھے اور سب کی طرف سے اپنا حال یوں بیان کیا۔
اےؔ بادشاہ ! ہمارا یہ حال ہے کہ ہم جہالت اور گمراہی کے گڑہے میں گرے ہوئے تھے ہم بتوں کی پوجا کرتے تھے۔گندی فحش باتیں بکتے تھے۔ مردار کھایا کرتے تھے۔ ہم میں کوئی انسانیت کی خوبی نہ تھی۔ خدا وند تعالیٰ نے جس کا فضل تمام جہان پر چھایا ہوا ہے محمد ؐ کو اُس پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو ہمارے لئے رسول کرکے بھیجا۔ اُس کی شرافت نسب اور راست گفتاری صفا باطنی اور دیانت داری سے ہم خوب آگاہ ہیں۔ اُس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی ظاہر فرمائی اوروہ اللہ کا پیغام لے کر ہمارے پاس آیا کہ صرف ایک خدا پر ایمان رکھو۔ اُس کی ذات اور صفات میں اور کسی کو شریک مت کرو۔ اور بتوں کی پرستش مت کرو۔ راست گفتاری اپنا شعار ٹھہراؤ۔ امانت میں کبھی خیانت نہ کرو۔ اپنے تمام ابنائے جنس سے ہمدردی رکھو۔ پڑوسیوں کے حقوق کی نگہداشت کرو۔ عورت ذات کی عزت کرو۔ یتیموں کا مال نہ کھاؤ۔پاکیزگی اور پرہیزگاری کی زندگی اختیارکرو۔ خدا کی عبادت کرو۔ اُس کی یاد میں کھانا پینا تک بھول جاؤ۔ راہِ خدا میں غریبوں کی مدد کے لئے خیرات کرو۔
اے بادشاہ ! صرف اس ایمان لانے پر ہمیں وہ ایذائیں دی گئی ہیں کہ ہمیں جلاوطن ہونا اور راہِ غربت اختیار کرنا پڑا ہے ہمیں اپنے دیس میں کہیں پناہ نہ ملی۔ تیرے انصاف
بقیہ حاشیہ صفحہ۲۵۹ ۔ حلیم نہیں بلکہ اپنے خاص بندوں کے لئے غیرت بھی رکھتا ہے ظالموں کو پکڑا کیا بد زبان مخالفوں کی یہ بد ذاتی اور خباثت نہیں کہ کافروں کو جو تکلیف دی گئی وہ تو پُرزور لفظوں سے بیان کی جاتی ہے اور جو کافروں نے ظلم اور شرارت میں سبقت کی اور درندوں کی طرح بے گناہ مومنوں کو دکھ دیا اس کا نام بھی نہیں لیا جاتا اگر یہ بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے ؟ مَن مؤلف ہٰذا الکتاب