انؔ ایمانداروں پر عذاب کا ایک باقاعدہ سلسلہ قائم کیا گیا اور عجیب مصیبت میں اُن بے چاروں کی جان پھنس گئی۔ محمد صاحب اپنی آنکھوں سے اُن بے چاروں پر یہ ظلم ہوتا دیکھ کر اُن کا جگر مظلوموں کی ہمدردی میں پاش پاش ہوتا تھا مگر کچھ نہ کرسکتے تھے۔
مومنوں کی یہ حالت دردناک دیکھ کر آپ نے انہیں یہ صلاح دی کہ تم نے راہِ خدا میں قدم رکھا ہے تم ان تکلیفوں سے نہ گھبراؤ۔ اور اللہ کا نام لے کر ابے سینیاکی طرف ہجرت کر جاؤ چنانچہ اُن کے کہنے کے بموجب چند قبیلوں کے لوگ جو اپنی جان سے بھی تنگ تھے مع اپنے عیال و اطفال کے اپنا گھر بار چھوڑ کر ابے سینیا کی طرف روانہ ہوگئے اور اُن کے بعد اور بہت سے لوگوں نے ترکِ وطن اختیار کیا۔ جلاوطنی جس کومسلمانوں نے ہجرت کے نام سے موسوم کیا ہے پانچویں سال نبوت میں وقوع میں آئی۔
جب قریش کو یہ خبر پہنچی کہ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے تو انہوں نے وہاں تک تعاقب کیا*۔اور نجاشی شاہ ابے سینیا کی خدمت میں پہنچے اور بعض کی نسبت یہ بیان کیا کہ
قیہ حاشیہ صفحہ۲۵۸۔ کیاؔ موقوف ہے جو شخص اسلامی تاریخ پڑھے گا اس کو معلوم ہوگا کہ صدہا قصے اسی طرح کی بے رحمی کے ہیں ۔ علاوہ اس سختی کے جو مردوں سے کی گئی پاکدامن عورتوں کے ذلیل کرنے اور بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہ رکھی ۔ پس چونکہ خدا کا نام غیور بھی ہے لہٰذا اس نے تیرہ۱۳ برس تک صبر کر کے خبیث کافروں کو ان کے خُبْث کا مزہ چکھایا ۔ ظالم طبع لوگوں کا کام ہے کہ وہ یک طرفہ قصہ سنا کر ایک اعتراض بنا لیتے ہیں لیکن اگر انصاف کے پابند ہوتے تو ان کو یہ بھی دیکھنا چاہیئے تھا کہ مسلمانوں پر کیا کیا ظلم کیا گیا ہے ۔ منہ
* حاشیہ۔ یاد رؔ ہے کہ یہ عبارتیں ہم رسالہ مسمی بہ سوانح عمری حضرت محمدصاحب سے نقل کر رہے ہیں جوایک منصف مزاج برہمو نے ( جو پرچارک براہم دھرم ہیں ) لکھ کر شائع کیا ہے ۔ یہ رسالہ رفاہ عام سٹیم پریس لاہور میں چھپا ہے جس کا جی چاہے منگوا کر دیکھ لے ۔ اس سے ایک بے تعصب آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جو اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنگ اوراس کے دوسرے لوازم غلام اور لونڈیاں بنانا ظہور میں آئے ان تمام امور میں پہلے کفار کی طرف سے سبقت تھی اور جب ان کی شرارت اور ظلم انتہا تک پہنچ گیا تب خدا نے جو صرف ( بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۶۰پر دیکھیں )