جگہؔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 33 ۱؂ یعنی عذاب تو میرا خاص صورتوں میں ہے جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر ایک چیز تک پہنچ رہی ہے۔ اور پھر سورۃ آل عمران میں خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دُعا سکھلائی ہے اور وہ یہ ہے 3 ۲؂ یعنی اے ہمارے خدا ہمارے گنا ہ بخش اور جو اپنے کاموں میں ہم حد سے گذر جاتے ہیں وہ بھی معاف فرما۔ پس ظاہر ہے کہ اگر خدا گناہ بخشنے والا نہ ہوتا تو ایسی دُعا ہرگز نہ سکھلاتا اور پھر سورۃ البقرہ کے آخر میں خدا تعالیٰ نے مندرجہ ذیل دُعا سکھلائی ہے اوروہ یہ ہے3 33الخ۳؂ یعنی اے ہمارے خدا نیک باتوں کے نہ کرنے کی وجہ سے ہمیں مت پکڑ جن کو ہم بھول گئے اور بوجہ نسیان ادا نہ کرسکے اور نہ اُن بدکاموں پر ہم سے مؤاخذہ کر جن کا ارتکاب ہم نے عمداً نہیں کیا بلکہ سمجھ کی غلطی واقع ہوگئی اور ہم سے وہ بوجھ مت اُٹھوا جس کو ہم اُٹھا نہیں سکتے اور ہمیں معاف کر اور ہمارے گناہ بخش اور ہم پر رحم فرما۔ پس اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نے یہی دُعا سکھلائی ہے کہ ہم اُس سے گناہوں کی معافی مانگیں۔ پھر سورہ آل عمران میں فرمایا ہے3 33 3الخ۴؂ اوروہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کا کام کریں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اور پھر اپنے ایسے حال