مشکل سے چھڑایا۔ اس پر ابوبکر کو اس قدر مار ا پیٹا کہ وہ بیہوش ہوکرزمین پر گر پڑے۔ حضرت کے اُوپر جو ظلم ہوتا تھا اُسے جس طرح بن پڑتا تھا وہ برداشت کرتے تھے مگر ؔ اپنے رفیقوں کی مصیبت دیکھ کر اُن کا دل ہاتھ سے نکل جاتا تھا اور بیتاب ہوجاتا تھا اُن غریب مومنوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ لوگ اُ ن غریبوں کو پکڑ کر جنگل میں لے جاتے اور برہنہ کرکے جلتی تپتی ریت میں لٹادیتے اور اُن کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے وہ گرمی کی آگ سے تڑپتے۔ مارے بوجھ کے زبان باہر نکل پڑتی۔ بہتیروں کی جانیں اس عذاب سے نکل گئیں۔ انہیں مظلوموں میں سے ایک شخص عمّار تھا جسے اس حوصلہ و صبر کی وجہ سے جو اُس نے ظلموں کی برداشت میں ظاہر کیا حضرت عمّار کہنا چاہئے ان کی مُشکلیں باندھ کر اُسی پتھر یلی تپتی زمین پر لٹاتے تھے اور اُن کی چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ محمدؐ کو گالیاں دو اور یہی حال اُن کے بڈھے باپ کا کیا گیا۔ اُن کی مظلوم بی بی سے جس کا نام سمیّہ تھا یہ ظلم نہ دیکھا گیا اور وہ عاجزانہ فریاد زبان پر لائی اس پروہ بے گناہ ایماندار عورت جس کی آنکھوں کے روبرو اُس کے شوہر اور جوان بچے پر ظلم کیا جاتا تھا برہنہ کی گئی اور اُسے سخت بے حیائی سے ایسی تکلیف دی گئی جس کا بیان کرنا بھی داخل شرم ہے آخر اس عذاب شدید میں تڑپ تڑپ کر اس ایماندار بی بی کی جان نکل گئی*۔ (دیکھو صفحہ ۲۵ سوانح عمری حضرت محمدؐ صاحب) *حاشیہ۔ جو ظالم طبع لوگ مسلمانوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے لڑائیوں میں کافروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنایا تھا وہ اس تھوڑے سے قصہ پر ہی غور کریں جو ایک منصف مزاج برہمو نے اپنی کتاب مسمی سوانح عمری حضرت محمدؐ میں لکھا ہے ۔ یہ قصہ اس کتاب کے صفحہ ۵ژ۲ میں درج ہے جو اس جگہ مصنف کی عبارت میں نقل کردیا ہے۔ اور قصہ پر (بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۵۹ پر دیکھیں)