ؕ‏ ۱ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍؕ‏ ؂ دیکھوسورۃالشوریٰ(ترجمہ) اور جو کچھ تمہیں کچھ مصیبت پہنچتی ہے پس تمہاری بداعمالی کے سبب سے ہے اورخدا بہت سے گناہ بخش دیتاہے۔ اور کسی گناہ کی سزا دیتا ہے۔ اور پھر اسی سورت میں یہ آیت بھی ہے۔ ۲؂ وَهُوَ الَّذِىْ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَعْفُوْا عَنِ السَّيِّاٰتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں ان کومعاف کر دیتا ہے کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّر ۳؂ یعنی جو شخص ایک ذرّہ بھی شرارت کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔ پس یاد رہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں کیونکہ اس شرّ سے وہ شرّ مراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے۔ اسی غرض سے اِس جگہ شر کا لفظ استعمال کیا ہے نہ ذنب کا تا معلوم ہوکہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا۔ ورنہ سارا قرآن شریف اِس بار ہ میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترکِ اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ ۴؂ اللّٰهُؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ‏ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور نیز اُن لوگوں سے پیار کرتا ہے کہ جو اِس بات پر زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح گناہ سے پاک ہو جائیں۔ غرض ہر ایک بدی کی سزا دینا خدا کے اخلاق عفو اور درگذر کے برخلاف ہے کیونکہ وہ مالک ہے نہ صرف ایک مجسٹریٹ کی طرح جیسا کہ اُس نے قرآن شریف کی پہلی سورت میں ہی اپنا نام مالک رکھا ہے اور فرمایا کہ ۵؂ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِؕ یعنی خدا جزا سزا دینے کا مالک ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی مالک مالک نہیں کہلا سکتا جب تک دونوں پہلوؤں پر اس کو اختیار نہ ہو یعنی چاہے تو پکڑے اور چاہے تو چھوڑ دے پھر ایک اور