یعنیؔ بندہ ہے کوئی حق پیش نہیں کرسکتا اور انصاف جوئی کی بناء پرکوئی اس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔
یادرہے کہ مالک ایک ایسا لفظ ہے جس کے مقابل پر تمام حقوق مسلوب ہو جاتے ہیں اور کامل طور پر اطلاق اس لفظ کا صرف خدا پر ہی آتا ہے کیونکہ کامل مالک وہی ہے۔ جو شخص کسی کو اپنی جان وغیرہ کا مالک ٹھہراتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ اپنی جان اور مال وغیرہ پر میرا کوئی حق نہیں اور میرا کچھ بھی نہیں سب مالک کا ہے اِس صورت میں اپنے مالک کو یہ کہنا اس کے لئے ناجائز ہو جاتا ہے کہ فلاں مالی یا جانی معاملہ میں میرے ساتھ انصاف کر۔ کیونکہ انصاف حق کو چاہتا ہے اور وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہو چکا ہے۔ اِسی طرح انسان نے جو اپنے مالک حقیقی کے مقابل پر اپنا نام بندہ رکھایا اور3 ۱ کا اقرار کیا یعنی ہمارا مال۔ جان۔ بدن۔ اولاد سب خدا کی مِلک ہے۔ تو اِس اقرار کے بعد اس کا کوئی حق نہ رہا جس کا وہ خدا سے مطالبہ کرے۔ اِسی وجہ سے وہ لوگ جو درحقیقت عارف ہیں باوجود صدہامجاہدات اور عبادات اور خیر ات کے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کے رحم پر چھوڑتے ہیں اور اپنے اعمال کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے اور کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا کوئی حق ہے یا ہم کوئی حق بجا لائے ہیں۔کیونکہ درحقیقت نیک وہی ہے جس کی توفیق سے کوئی انسان نیکی کرسکتا ہے اور وہ صرف خدا ہے۔ پس انسان کسی اپنی ذاتی لیاقت اور ہنر کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے انصاف کا مطالبہ ہرگز نہیں کرسکتا۔ قرآن شریف کی رُو سے خدا کے کام سب مالکانہ ہیں جس طرح کبھی وہ گناہ کی سزا دیتا ہے ایسا ہی وہ کبھی گناہ کو بخش بھی دیتا ہے یعنی دونوں پہلوؤں پر اس کی قدرت نافذ ہے۔ جیسا کہ مقتضائے مالکیت ہونا چاہیئے۔ اور اگروہ ہمیشہ گناہ کی سزا دے تو پھر انسان کا کیا ٹھکانہ ہے بلکہ اکثر وہ گناہ بخش دیتا ہے اور تنبیہ کی غرض سے کسی گناہ کی سزا بھی دیتا ہے تاغافل انسان متنبہ ہوکر اس کی طرف متوجہ ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے۔وَمَاۤ اَصَابَكُمْ