سے ہر ایک کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کیا کیا مصیبتیں اسلام کی راہ میں اٹھائیں اور کیسی استقامت دکھلائی اور باوجود بھوکے اور فاقہ کش ہونے کے کیسے دشمنوں سے مقابلے کئے یہاں تک کہ بُتپرستی کی تاریکی کو اپنے خونوں سے دُنیا کے کئی حصوں میں سے اٹھا دیا اور خدا کے دین کی خدمت میں چین کے ملک تک پہنچے اور کروڑہا انسانوں کو بت پرستی سے تائب کرکے توحید کے نور سے منور کیا اور ہر ؔ ایک میدان میں اور ہر ایک موقعہ میں آزمائش میں ایسا اپنا صدق دکھلایا کہ اس کے تصور سے رونا آتا ہے تو کیا اُن کی نسبت کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ وہ جبراً مسلمان کئے گئے تھے۔ فی الواقع ایمانی مراتب میں انہوں نے وہ ترقی کی تھی کہ اُن کا نمونہ ملنا مشکل ہے اُن کے صدق اور اخلاص نے تمام ممالک کو فتح کرکے دکھلا دیا اور جس جلدی سے انہوں نے دنیا میں اسلام کو پھیلا یا وہ بھی درحقیقت ایک معجزہ ہی تھا جس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ وید کے خادم جو برہمن اور پنڈت کہلاتے ہیں اگر اُن پاک لوگوں کے مقابل پر دیکھے جائیں تو ضرور ہمیں کہنا پڑے گا کہ یہ لوگ محض دنیا پرست اور نفسانی انسان تھے تبھی تووہ کسی دل کو فتح نہ کرسکے اور دنیا میں نہایت بدنمونہ مخلوق پرستی وغیرہ کا چھوڑ گئے اور آریہ ورت کی نسل کو آتش پرستی اور بت پرستی اورآب پرستی اور آفتاب پرستی سے نہ روک سکے۔ اگر وہ لوگ رُوحانی آدمی ہوتے تو ضرور اُن کا اثر آریہ ورت پر پڑتا مگر جو کچھ آریہ ورت کی حالت مذہبی اعتقاد کی رو سے اب تک دیکھی جاتی ہے وہ صاف بتلا رہی ہے کہ یہ تمام لوگ خدا کی محبت سے بے بہرہ تھے انسان کی عملی حالت سے بڑھ کر کوئی امر اُس کے خالص ایمان پر گواہ نہیں ہوسکتا۔ عملی حالت انسان کی اس کے ایمان پر ایک مستحکم شہادت ہے۔ آج جو بیس۲۰ کروڑ کے قریب یا اس سے زیادہ دنیا میں مسلمان پائے جاتے ہیں یہ اُنہیں لوگوں بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۳۶۔ یورؔ پ کے علماء صدق دل سے اقرار کرتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کو عرب کی شاگردی کا فخر ہے پس کیا یہ ترقیات وہ قوم کرسکتی ہے جو جبراََ تلوار سے مسلمان کئے گئے اور ابتدا میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محض اکیلے تھے تو پھر جبر کرنے والی فوج کہاں سے نکل آئی ؟ منہ