ایمان کا تو ہنوز تمہارے دلوں میں گذر تک نہیں ہوا۔ سو خدا نے یہ معافی محض اطاعت کے لئے دی تھی تا ملک میں سے بغاوت دُور ہو او ر اس طرح پر اُن کو سوچنے سمجھنے کا زیادہ موقعہ ملے اور درحقیقت اس معافی سے کفار کو بڑا فائدہ ہوا۔ پہلے تو انہوں نے اطاعت کرلی اور مقابلہ چھوڑ دیا اور پھر خدا تعالیٰ کے کلام پر غور کرکے اور خدا کی نصرت اور فضل کے تازہ نشان دیکھ کر اُن کے دلوں میں ایمان رچ گیا اور وہ لوگ ایسے کامل الایمان ہوگئے کہ فرشتوں کے ساتھ ہاتھ جا ملائے۔ ہمارے مخالف جو خواہ نخواہ اسلام پر جبر کا الزام لگاتے ہیں اُن کو یہ دو باتیں ضرور سوچنی چاہئیں۔ (۱) اول یہ کہ جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے صحابہ کے دلوں میں تبدیلی پیدا ہوئی اور جس قدر وہ بُت پرستی او رہر ایک مشرکانہ رسم سے متنفر ہوگئے کیا ایسی تبدیلی اور ایسی شرک سے بیزاری اس شخص کے دل میں پیدا ہوسکتی ہے کہ جو جانتا ہے کہ مجھے جبراً مسلمان کیا گیا ہے* (۲) دوسری وہ تائید اسلام جو انہوں نے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر دکھلائی یہاں تک کہ پچا۵۰س برس کی مدت ابھی نہیں گذری تھی کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہوگیا اور مختلف ممالک میں پھیل گیا اور انہوں نے اسلام کی تائید میں وہ کام حیرت انگیز دکھائے کہ جب تک انسان کا دل کسی اپنے ہادی کی راہ میں فدا شدہ نہ ہو ایسے کام ہرگز نہیں دکھلا سکتا ز۔ تاریخ پڑھنے *حاشیہ۔ اس جگہ آریہ صاحبوں کو چاہیئے کہ اپنے ایک ہندو بھائی برہمو کی کتاب یعنی سوانح عمری حضرت محمد صاحب صفحہ ۳۴ غور سے مطالعہ کریں ۔ منہ ز محققین یورپ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جس صدقِ دل اور دلی جوش سے عربوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کیا وہ ایک فوق العادت امر ہے اور اسی سچے ایمان اور اخلاص کا نتیجہ تھا کہ تھوڑی ہی مدت میں ان کو دنیا میں وہ فتوحات حاصل ہوئیں جو آج تک کسی قوم کو حاصل نہیں ہوئیں اور ایک حیرت ناک امر یہ ان سے ظہور میں آیا کہ یا تو وہ لوگ اُمّی اور ناخواندہ تھے اور یا عُلوم و فُنون میں وہ فوقیت حاصل کی جو قدیم علموں کو زندہ کیا ۔ اور بہت سے نئے علوم ایجاد کئے ۔ عراق اور شام ۔ اسپین اور دیگر ممالک اسلامیہ کی یونیورسٹیاں مشہور تھیں (بقیہ حاشیہ دیکھیں صفحہ نمبر ۲۳۷ پر)