تھے تاکہ تجھے گرفتار کر رکھیں یا تجھے مار ڈالیں اور یا تجھے جلاوطن کردیں اورحال یہ تھا کہ کافرتو قتل کے لئے اپنا داؤ کر رہے تھے اور خدا اُن کو مغلوب کرنے کے لئے اپنا داؤ کررہا تھا اور خدا سب داؤ کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے جس کے داؤ میں سراسر مخلوق کی بھلائی ہے۔ اِسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کرلیا تو تمام کفار گرفتار کرکے آپ کے سامنے پیش کئے گئے تو کفار نے خود اپنے منہ سے اس وقت اقرار کیا کہ ہم بباعث اپنے سخت جرائم کے واجب القتل ہیں اور اپنے تئیں آپ کے رحم کے سپرد کرتے ہیں تو آپ نے سب کو بخش دیا اور اس موقع پر معافی کے لئے اسلام کی بھی شرط نہ لگائی۔ لیکن وہ لوگ یہ اخلاق کریمانہ دیکھ کر خود بخود مسلمان ہوگئے اور تاریخ سے ثابت ہوتاہے کہ مکّہ معظمہ میں کئی مرتبہ کفّارِ قریش آنحضرتؐ کے اقدام قتل کے مرتکب ہوئے تھے اور ہر ایک مرتبہ میں ناکام رہے پس اُن کے یہ جرائم تھے جن کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں واجب القتل تھے اور اُن کو یہ رعایت دی گئی تھی کہ اگروہ بُت پرستی سے بازآجائیں اور خدا کی کتاب کو قبول کرلیں تو سزائے موت سے اُن کومعافی دی جائے گی۔ ایسا ہی اُن جرائم میں عرب کے تمام بُت پرست اُن کے مددگار اور معاون تھے اور اُن کے ہاتھ سے صدہا مومن بے گناہ قتل ہوچکے تھے سو اُن خون ریزیوں کے جرائم کے پاداش میں اُن پر قتل کا حکم تھا پر خدا وندکریم نے جو سزا دینے میں دھیما ہے اُن سے نرمی کی اورفرمایا کہ اگر اطاعت کرلیں اور بغاوت چھوڑ دیں تو اُن کے گناہ معاف کئے جائیں گے سو اوّل اوّل تو بہتوں نے اُن میں سے اطاعت اختیار نہ کی لیکن جب اسلام کا ستارہ چمکا اور خدا کی نصرت اور مدد روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوگئی تب ان لوگوں نے بھی اطاعت اختیار کی چنانچہ خدا تعالیٰ اُن کے حق میں قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے3 3۱؂الجزونمبر۲۶سورۃ الحجرات (ترجمہ) عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ان کو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے ایمان تو اور ہی چیز ہے سو تم یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کے لئے گردن ڈال دی اور