آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیں پس ان گناہوں کی وجہ سے وہ خدا کی نظر میں واجب القتل ٹھہر چکے تھے اور اُن کا قتل کرنا عین انصاف تھا کیونکہ وہ جرم قتل اور اقدام قتل کے مرتکب ہوچکے تھے*اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو برابر تیرہ۱۳ برس اُن میں رہ کر وعظ کرتے رہے اور نیز آسمانی نشان دکھلاتے رہے اس صورت میں خدا کی حجت اُن پر پوری ہوچکی تھی اس وجہ سے خدا نے جورحیم و کریم ہے اُن کی نسبت یہ حکم دیا تھا کہ وہ اگرچہ اپنے جرائم کی وجہ سے بہرحال قتل کرنے کے لائق ہیں لیکن اگر کوئی اُن میں سے خدا کی کلام کو سن کر اسلام قبول کرے تو یہ قصاص اس کو معاف کیا جاوے ورنہ اپنے گناہوں کی سزا میں جو قتل اور اقدام قتل ہے وہ بھی قتل کئے جائیں گے اب بتلاؤ کہ اس میں کونسا جبر ہے؟ جس حالت میں وہ لوگ جرم قتل اور اقدام قتل کی وجہ سے بہرحال قتل کے لائق تھے اور یہ رعایت قرآن شریف نے اُن کودی کہ اسلا م لانے کی حالت میں وہ قصاص دور ہوسکتا ہے تو اس میں جبر کیا ہوا؟ اور اگر یہ رعایت نہ دی جاتی تو ان کا قتل کرنا بہرحال ضروری تھا کیونکہ وہ قاتل اور اقدام قتل کے مرتکب تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے 33 ۱ یعنی
ہم اُن لوگوں کو جو ناحق قتل کئے جاتے ہیں اجازت دیتے ہیں کہ اب وہ بھی قاتلوں کا مقابلہ کریں یعنی ایک مدت تک تومومنوں کو مقابلہ کی اجازت نہیں دی گئی تھی اوروہ مدت تیرہ ۱۳ برس تھی اور جب بہت سے مومن قتل ہوچکے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےؔ اقدام قتل کے بھی کافر لوگ مرتکب ہوئے تب تیرہ۱۳ برس کے مصائب اٹھانے کے بعد مقابلہ کی اجازت دی گئی۔ اور پھر دوسری آیت یہ ہے 33 ۲ الجزونمبر۹ سورۃ الانفال(ترجمہ ) اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کر جب کافر لوگ تجھ پر داؤ چلانا چاہتے
*دیکھو کتاب سوانح عمری حضرت محمد صاحب صفحہ ۲۵ جس کو ایک برہمو صاحب نے انصاف کی راہ سے حال ہی میں تالیف کرکے شائع کیا ہے ۔ منہ