قرآن شریف میں اس قدر تصریح سے بیان فرمایا ہے کہ دین کے بارے میں جبر نہیں کرناچاہئے پھر بھی جن کے دل بغض اور دشمنی سے سیاہ ہو رہے ہیں ناحق خدا کے کلام پر جبر کا الزام دیتے ہیں۔ اب ہم ایک اورآیت لکھ کر منصفین سے انصاف چاہتے ہیں کہ وہ خدا سے ڈرکر ہمیں بتلاویں کہ کیا اس آیت سے جبر کی تعلیم ثابت ہوتی ہے یا برخلاف اس کے ممانعت جبر کا حکم بپایہء ثبوت پہنچتا ہے اور وہ یہ آیت ہے۔ 3 3 ۱ ۔ الجزنمبر ۱۰ سورۃ التوبۃ (ترجمہ) اگر تجھ سے اے رسول کوئی شخص مشرکوں میں سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دیدو اور اُس وقت تک اُس کو اپنی پناہ میں رکھو کہ وہ اطمینان سے خدا کے کلام کو سن سمجھ لے اور پھر اُس کو اُس کے امن کی جگہ پر واپس پہنچا دو۔ یہ رعایت ان لوگوں کے حق میں اس وجہ سے کرنی ضرور ہے کہ یہ لوگ اسلام کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ اب ظاہرہے کہ اگر قرآن شریف جبر کی تعلیم کرتا تو یہ حکم نہ دیتا کہ جو کافر قرآن شریف کو سننا چاہے تو جب وہ سن چکے اور مسلمان نہ ہو تو اُس کو اُس کے امن کی جگہ پر پہنچا دینا چاہئے بلکہ یہ حکم دیتا کہ جب ایسا کافر قابو میں آجاوے تو وہیں اُس کو مسلمان کرلو۔
اب ہم ایک اور بات اِن جاہلوں کو سناتے ہیں کہ جو خواہ نخواہ جبر کا الزام خدا کے کلام پر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مکّے کے رہنے والے کل کفار اور نیز دیہاتی اور گرد و نواح کےؔ لوگ ایسے تھے کہ جنہوں نے اس زمانہ میں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ معظمہ میں تھے اور کوئی جنگ شروع نہ تھا کئی مسلمان ناحق قتل کردئیے تھے اور ان مظلوموں کا خون اُن کی گردن پر تھا اور درحقیقت وہ سب اس گناہ میں شریک تھے کیونکہ بعض قاتل اور بعض ہمراز اور بعض اُن کے معاون تھے اس وجہ سے وہ لوگ خدا کے نزدیک قتل کے لائق تھے کیونکہ اُن کی اس قسم کی شرارتیں حد سے گذر گئی تھیں۔ علاوہ اس کے سب سے بڑا گناہ اُن کا یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام قتل کے مرتکب تھے اور انہوں نے پختہ ارادہ کیا تھا کہ