رہا اعتراض شقُّ القمر تو ہم پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ یہ وہ معجزہ ہے کہ جو عرب کے ہزاروں کافروں کے روبرو بیان کیا گیا ہے پس اگر یہ امرخلاف واقعہ ہوتا تو یہ اُن لوگوں کا حق تھا کہ وہ اعتراض پیش کرتے کہ یہ معجزہ ظہور میں نہیں آیا خاص کر اس حالت میں کہ شقُّ القمر کی آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکّا جادو ہے جو آسمان تک پہنچ گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے 3 33 ۱؂ یعنی قیامت نزدیک آئی اور چاند پھٹ گیا اور جب یہ لوگ خداکاکوئی نشان دیکھتے ہیں توکہتے ہیں کہ ایک پکّا جادو ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر ظہور میں نہ آیا ہوتا تو اُن کاحق تھا کہ وہ کہتے کہ ہم نے تو کوئی نشان نہیں دیکھا اور نہ اس کو جادوکہا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی امر ضرور ظہور میں آیا تھا جس کانام شق القمر رکھا گیا۔ بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ ایک عجیب قسم کا خسوف تھا جس کی قرآن شریف نے پہلے خبر دی تھی اور یہ آیتیں بطور پیشگوئیوں کے ہیں اس صورت میں شق کا لفظ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگا کیونکہ خسوف کسوف میں جو حصہ پوشیدہ ہوتاہے گویا وہ پھٹ کر علیحدہ ہو جاتا ہے ایک استعارہ ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن شریف میں لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کا حکم ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو نہ اپنی ذاتی کچھ عقل ہے اونہ علم صرف پادریوں کا کاسہ لیس ہے چونکہ پادریوں نے اپنے نہایت کینہ اور بغض سے جیسا کہ اُنؔ کی عادت ہے محض افترا کے طورپر اپنی کتابوں میں یہ لکھ دیا ہے کہ اسلام میں جبراً مسلمان بنانے کا حکم ہے سو اُس نے اور اُس کے دوسرے بھائیوں نے بغیر تحقیق اور تفتیش کے وہی پادریوں کے مفتریانہ الزام کو پیش کردیا۔ قرآن شریف میں توکھلے کھلے طور پر یہ آیت موجود ہے 33۲؂ یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے تحقیق ہدایت اور گمراہی میں کھلا کھلا فرق ظاہر ہوگیا ہے پھر جبر کی کیا حاجت ہے تعجب کہ باوجودیکہ