اورؔ کیونکر عقل تسلیم کرسکتی ہے کہ ہر ایک حیوان کی تناسخی صورت ہمیشہ دنیا میں رہے گی۔ اگر کہو کہ ان تمام حیوانات کا مجموعہ ابتدا سے چلا آتا ہے اور یہی دلیل ان کی آئندہ کے بقاء پرہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ دلیل تو ہمارے لئے ہے نہ تمہارے لئے۔ کیونکہ جب کہ بقول تمہارے کروڑہا برسوں بلکہ کروڑہا اربوں سے گائیاں زمین پر چلی آتی ہیں اور ایسا ہی گھوڑے اور ایسا ہی مرد عورتیں بھی پس اگر محض تناسخ کے اتفاقی اسباب سے ان چیزوں کا وجود ہوتا تو کبھی نہ کبھی بہت سی چیزیں ان میں سے مفقود بھی ہوجاتیں اور کبھی ایسا بھی اتفاق ہوتا کہ مرد ہی پیدا ہوتے یا محض عورتیں ہی پیدا ہوتیں۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ آریوں کے عقیدہء تناسخ کے رُو سے اُن کا پرمیشر اس دُنیا کا مالک نہیں ٹھہر سکتا۔ یاد رہے کہ کوئی آریہ اپنی وید کی تعلیم کے رُو سے نہیں کہہ سکتا کہ ارواح اور ذرات پرمیشر کی ملکیت ہیں اور وہ اُن کا مالک ہے بلکہ آریوں کا اقرار ہے کہ پرمیشر رُوحوں کی طاقتوں اور قوتوں اور خواص میں دخل دینے سے بکلی قاصر اورعاجز ہے۔ کیونکہ پرمیشراُن کاخالق نہیں اور روحوں کی تمام طاقتیں اور قوتیں قدیم سے خود بخود ہیں اور ہرایک رُوح اپنے وجود کا آپ ہی پرمیشر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ روحیں پرمیشر کے لئے ایک پیدا کردہ ملکیت کی طرح ہیں اور نہ پرمیشر کا اُن پر مالکانہ اختیار نافذ ہے۔ ہاں حاکمانہ اختیار ہے یعنی حکّام کی طرح اُن کو اعمال کی جزا سزا دیتا رہتا ہے۔ پس اگر پرمیشر کورُوحوں اور ذرّات کی طرف کچھ نسبت ہے تووہ صرف اِس طور کی نسبت ہے جو ایک بادشاہ کو اپنی رعیت کی طرف ہوتی ہے لیکن مالکانہ رنگ میں پرمیشر کوروحوں اور ذرات سے کچھ بھی نسبت اور تعلق اور واسطہ نہیں ہے کیونکہ ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ پورے طور پر مالک وہ ہوتا ہے جو اپنی ملکیت پر پور ا پورا اختیار رکھتا ہو مثلاً کسی کے پاس کسی قدر اپنی ملکیت کی زمین ہے تو وہ اختیار رکھتا ہے کہ چاہے تو اُس زمین پر پایخانہ بناوے یا روٹی پکانے کی جگہ بناوے۔ پس مالک کے مقابل پر وہ جو اُس کا مملوک ہے