کسی صحیح حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ حضرت عیسیٰ معہ جسم آسمان پر چلے گئے تھے ہاں یہ ذکر ہے کہ مسیح کے نام پر ایک شخص آنے والا ہے جو اسی اُمّت میں سے ہوگا مگر یہ کہیں ذکر نہیں کہ وہ آسمان پر گیا تھا اور پھر آسمان سے واپس آئے گا۔ نزول کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت حدیثوں میں موجود ہے وہ اعزاز کے طور پرہے اگر کوئی شخص آسمان سے واپس آنے والا ہوتا تو اس موقعہ پررجوع کا لفظ ہونا چاہئے تھا نہ نزول کا لفظ۔ اکثر نادان اس سے دھوکا کھاتے ہیں کہ نُزول اُترنے کو کہتے ہیں اور پھر اس فقرہ کے ساتھ آسمان کا لفظ اپنی طرف سے جوڑ لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ آنے والا آسمان سے اُترے گا حالانکہ تمام حدیثیں پڑھ کر دیکھ لو کسی صحیح حدیث میں آسمان کا لفظ نہیں پاؤگے اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے کہ ایک زبان کا یہ محاورہ ہے کہ ایک شخص کی آمد کو جب بطور اکرام و اعزاز بیان کیاجاتا ہے تو یہی کہتے ہیں کہ وہ فلاں جگہ اترا ہے جیسا کہ ہم معزز انسان کو کہہ سکتے ہیں کہ آپ کہاں اُترے ہیں۔ پس اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ آسمان سے اُترے ہیں اسی وجہ سے عربی زبان میں نزیل مسافر کو کہتے ہیں اور جو راہ میں مسافروں کے اُترنے کی جگہ ہوتی ہے اس کو منزل کہتے ہیں اور واپس آنے والے کے لئے رجوع کا لفظ بولا جاتا ہے نہ نزول کا۔ ماسوا اس کے قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت صاف فرما دیا ہے کہ وہ فوت ہوچکے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے بطور حکایت ذکر کرکے فرماتا ہے3 3 ۱؂ یعنی قیامت کو خدا تعالیٰ عیسیٰ سے پوچھے گا کہ کیا تو نے اپنی قوم کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کرکے ماناکرو تو وہ جواؔ ب دیں گے کہ جب تک میں اپنی قوم میں تھا میں اُن کو یہی تعلیم دیتا رہا کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہوں اور پھر جب تُو نے مجھ کو وفات دے دی تو بعد اُس کے مجھے اُن کے عقائد کا کچھ علم نہیں۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ اپنی وفات کا صاف اقرار کرتے ہیں اور اس میں یہ بھی اقرار ہے کہ میں دنیا میں واپس نہیں گیا کیونکہ اگر وہ دنیا میں واپس آئے ہوتے تو پھر اس صورت میں قیامت کے