دن یہ کہنا جھوٹ تھا کہ مجھے اپنی اُمت کی کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کونسا طریق اختیار کیا کیونکہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے اور عیسائیوں سے لڑائیاں کریں گے تو پھر قیامت کے دن انکار کرکے یہ کہنا کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں سراسر جھوٹ ہوگا۔ نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْہُ
پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا کہ شقُّ القمر خلاف قانون قدرت ہے اور ایسا ہی پتھر سے پانی نکلنا جو قرآن شریف میں مذکور ہے وہ بھی خلاف قدرت ہے سو اول ہم پتھر کی نسبت جواب دیتے ہیں کہ مضمون خواں کو پتھروں کے اقسام معلوم نہیں۔ صرف انکار کے جوش سے ایک نادان بچہ کی طرح باتیں کررہا ہے۔ بعض ایسے پتھر اب تک پائے جاتے ہیں جن میں یہ خاصیت ہے کہ اگر اُن پرکوئی شربت ڈال دیا جائے تو پانی پتھر کے اندر سے نیچے آجاتا ہے اور شیرینی کا حصہ اوپر رہ جاتا ہے بعض پتھر ایسے ہیں کہ اُن میں پرندوں کی تصویر جم جاتی ہے۔ اور بعض پتھر لو ہے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اوربعض پتھروں میں یہ خاصیت دیکھی گئی ہے کہ سرکہ میں ڈالنے سے ایک زندہ چیز کی طرح جست کرکے باہر آجاتے ہیں اور بعض پتھر تریاق اور بعض زہر ہوتے ہیں اور وہ بھی پتھر ہی ہوتے ہیں جو اعلیٰ درجہ کا ہیرا بن کر اُن میں سے روشنی کی شعاع نکلتی ہے اور یاقوت نیلم وغیرہ سب پتھر ہی ہیں جو بقدرت قادر مطلق عجیب و غریب خواص اپنے اندر رکھتے ہیں۔ حکیموں کا پرانا مقولہ مشہور ہے کہ خَوَاصُ الْاَ شْیَاءِ حَقٌّ یعنی یہ حق بات ہے کہ ہر ایک چیز میں ایک خاصیت ہوتی ہے اور ؔ انہیں خواص پر اطلاع پاکر انسانوں نے ایجادیں کی ہیں اور کر رہے ہیں او ر خداکی مخلوق میں اس قدر خواص پائے جاتے ہیں کہ جو کچھ اب تک دریافت ہوا ہے گویا وہ ایک دریا میں سے ایک قطرہ ہے پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کونسی عقلمندی ہے کہ مضمون خواں نے خواص اشیاء سے انکارکردیا۔ کیا یہ تعجب کی جگہ ہے کہ ایک پتھر ہو جس کے نیچے بہت پانی ہو اور پتھر کے پھٹنے سے پانی نکل آوے۔ پتھر کوپانی سے ایسا تعلق ہے جیسا کہ مچھلی کو دریا سے۔