خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے ماسوا اس کے یہ خیال سراسر غلط ہے کہ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چڑ ھ گئے تھے۔ قرآن شریف میں کئی جگہ صاف فرما دیا ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا بلکہ تمام زندگی زمین پر بسر کریں گے۔ یہ خدا کا وعدہ ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے3 3 ۱ یعنی زمین پر ہی تم زندہ رہوگے اور زمین پر ہی تم مروگے اور زمین میں سے ہی تم نکالے جاؤگے۔ پس اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کامع جسم عنصری آسمان پر جانا اِس وعدہ کے برخلاف ہے اورخدا پر تخلّف وعدہ جائز نہیں اور اس وعدہ میں کوئی استثناء نہیں۔ اور پھر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے33 ۲ یعنی کیا ہم نے زمین کو ایسے طور سے پیدا نہیں کیا جو اپنے تمام باشندوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے خواہ وہ زندوں میں سے ہوں اورخواہ مُردوں میں سے ہوں اور یہ بھی خدا کا وعدہ ہے۔ اور پھر ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3 3۳ یعنی تمہارا زمین پر ہی قرار ہوگااور تم زمین پر ہی اپنے موت تک زندگی بسر کروگے۔ یہ بھی خداکاوعدہ ہے اور پھر ایک موقع پر قرآن شریف میں یہ ذکر ہے کہ کفار قریش نے ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معجزہ طلب کیا کہ اُن کے روبرو آسمان پر چڑھ جائیں تو آپ کو خدا تعالیٰ نے ان الفاظ کے ساتھ جواب دیا کہ3 3۴ یعنی ان لوگوں کو یہ جواب دے کہ خدا تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اپنے وعدہ میں تخلّف کرے (وعدہ کا بھی ذکر ہوچکا ہے) اور میں تو صرؔ ف ایک انسان ہوں جو تمہاری طرف بھیجا گیا۔
اب اِن تمام آیات سے ظاہرہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ تہمت ہے کہ گویا وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے یہ عقیدہ اسلام میں صرف اُن عیسائیوں کے ذریعہ سے آیا ہے جو ابتداءِ اسلام میں مسلمان ہوگئے تھے ورنہ قرآن شریف میں اس کا ذکر کہیں نہیں اور