وہ معنی تم پر ایک حجت ہے کیونکہ اس زمانہ سے پہلے وہ معنی شائع ہوچکے ہیں اور یہ بات کہ کوشیکار شی کی بیوی کے پیٹ میں خود اِندر داخل ہوگیا یہ محض صرف اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے استعارہ ہے کہ بغیر اس کے کہ کوسیکا اپنی بیوی کے پاس جاتا خود بیوی کی منی سے بچہ پیدا ہوگیا تھا اور یہ خود تعجب کی جگہ نہیں کیونکہ جس حالت میں برسات کے ایام میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود مٹی سے ہی پیدا ہو جاتے ہیں تو اگر خدا نے کوئی ایسا نمونہ نوعِ انسان میں بھی پیدا کیا تو کیوں اس کو انکار کی نظر سے دیکھا جائے اور کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ یہ امر خدا کے قانون قدرت کے بَرخلاف ہے حالانکہ جس قانون قدرت پر زور دے کر اعتراض کیا جاتا ہے وہ تو بقول آریہ سماج کے اوّل دفعہ ہی ٹوٹ چکا ہے اور کروڑہا دفعہ خدا نے ابتدائے دنیا میں اس موجودہ قانون کی پابندی چھوڑ دی ہے۔پس ایسا قادر خدا جو ابتداءِ دنیا میں صرف مٹی سے انسان کو پیدا کر دیتا ہے پھر اگر وہ کسی انسان کو صرف عورت کے نطفہ سے ہی پیدا کرے تو یہ کونسی تعجب کی جگہ ہے۔ ظاہر ہے کہ نطفہ بہ نسبت مٹی کے بچہ پیدا ہونے کے لئے بہت قریب استعداد رکھتا ہے اور مٹی کی استعداد ایک استعداد بعیدہ ہے پس جب کہ تمہارا یہ اقرار ہے کہ جو چیز استعداد بعید رکھتی ہے اس سے انسان پیدا ہوسکتا ہے تو پھر یہ کہنا کہ جو چیز بہ نسبت مٹی کے بچہ پیدا ہونے کے لئے استعداد قریب رکھتی ہے اس سے بچہ پیدا نہیں ہوسکتا اگر یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم کو ہی پیش کیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33 ۱؂ یعنی عیسیٰ کی مثال خدا تعالیٰ کے نزدیک آدم کی ہے کیونکہ خدا نے آدم کو مٹی سے بناکر پھر کہا کہ تو زندہ ہو جاپسؔ وہ زندہ ہوگیا۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا کہ اُس میں لکھا ہے کہ عیسیٰ مسیح معہ گوشت پوست آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ ہماری طرف سے یہ جواب ہی کافی ہے کہ اوّل تو