اُس کو پیدا کیا جو بموجب قول آریہ سماج کے ہر ایک ابتدا دنیا میں لاکھوں انسان کو یوں ہی مولی گاجر کی طرح زمین میں سے نکالتا ہے جب کہ وید کے بیان کی رو سے کروڑہا مرتبہ بلکہ بے شمار مرتبہ خدا نے اسی طرح دنیا کو پیدا کیا ہے اور اس بات کا محتاج نہیں رہا کہ مرد عورت باہم ملیں تا بچہ پیدا ہو۔ تو پھر اسی طرح اگر یسوع بھی پیدا ہوگیا تو اس میں حرج کیا ہے۔ اس اعتراض کی جڑھ تو صرف اسی قدر ہے کہ بغیر مرد اورعورت کے ملنے کے کیونکر انسان پیدا ہو گیا۔ مگر جو شخص اپنا یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس سے پہلے کروڑہا بلکہ بے شمار مرتبہ ایسا اتفاق ہو چکا ہے کہ اِسی دنیا میں یہی انسان جواب موجود ہیں بغیر مرد اورعورت کے ملنے کے پیدا ہوتے رہے ہیں وہ کس مُنہ سے کہہ سکتاہے اور اس کا کیونکر یہ حق ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ اعتراض کرے کہ یسوع کی پیدائش خلافِ قانونِ قدرت ہے۔ بڑے بڑے محقق طبیبوں نے جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں اس قسم کی پیدائش کی مثالیں لکھی ہیں اور نظیریں دی ہیں اور اُن کی تحقیق کے رُو سے بعض اس قسم کی بھی عورتیں ہوتی ہیں کو قوت رجولیت اور انثیت دونوں اُن میں جمع ہوتی ہے اور کسی تحریک سے جب اُن کی منی جوش مارے تو حمل ہوسکتا ہے۔ اور ہندوؤں کی کتابوں میں بھی ایسی قصے پائے جاتے ہیں جیسا کہ خود وید میں یہ شُرتی موجود ہے کہ اے اِندر کو سیکارشی کے پوتر جس کو ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ پس جب کہ اس قسم کا قصہ وید میں بھی موجود ہے اور سیانا بھاشیکار نے وضاحت سے اس قصہ کو لکھا ہے تو پھر اعتراض کرنا حیا سے دور ہے۔ نہایت کارتم یہ جواب دوگے کہ ہم اس شُرتی کے اس طرح پر معنی نہیں کرتے تو یہ جواب درست نہیں ہے کیونکہ جب کہ ایک پرانا بھاشیکار یعنی سیانا یہی معنی کر چکا ہے تو تمہاری کیا مجال کہ اُس سے روگردانی کرو۔ کیا سیانا بھاشیکار کے مقابل پر دیانند کی کچھؔ حقیقت ہے کوئی دانا سیانا بھاشیکار کے مقابل پر دیا نند کو طفلِ مکتب بھی نہیں کہہ سکتا اور پھر وہ بھاشیکار پرانے زمانہ کا ہے اور پھر بطریق تنزل کہتے ہیں کہ جب کہ وید کی مذکورہ بالا شُرتی کے سیانا بھاشیکار یہ معنے کرچکا ہے خواہ تم اب ان معنوں کو قبول کرو یا نہ کرو تو بہرحال