جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدم اور حوّا کارشتہ نہایت قریب تھا مگر چونکہ ہم خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز پر قادر سمجھتے ہیں اس لئے ہم اس امر کو بھی کچھ بعید نہیں سمجھتے کہ حوّا آدم کی پسلی سے یاآدم حوّا کی پسلی سے پیدا ہوگیا ہو۔ خداکا کلام اس جگہ نہایت وسیع معنوں پر مشتمل ہے آیت کے معنے وسیع طور پر یہ ہیں کہ ایک سے ہم نے دوسرے کو پیدا کیا۔ اگر کسی کو یہ اعتراض ہو کہ پسلی سے پیدا کرنا قانون قدرت کے خلاف ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نطفہ سے پیدا ہونا بھی اُس قانون قدرت کے برخلاف ہے جو بموجب اصول آریہ کے پہلے ظہور میں آیا۔ پس جس نے ایک قانون قدرت بدلا کر دوسرا قانون قدرت پیدائش کے لئے مقرر کیا تو پھر کیا اُس کی شان سے کچھ تعجب کی جگہ ہے کہ جس طرح اُس نے بموجب اصول آریہ کے پہلی پیدائش میں کھمبوں کی طرح انسانوں کو پیدا کیا ایسا ہی اس نے بموجب اصول اسلام کے پہلی پیدائش میں ایک انسان کی پسلی سے دوسرا انسان پیدا کردیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ نوح کے طوفان کے وقت ایسی کشتی میں جو صرف بیس ہاتھ چوڑی اور تیس ہاتھ اونچی تھی تمام دنیا کے چرند پرند کے جوڑے کیونکر سما گئے اس کے جواب میں صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ قرآن شریف میں اس کشتی کا کوئی مقدار نہیں لکھا کہ اتنی چوڑی اور اتنی لمبی اور اس قدر اونچی تھی اور نہ یہ لکھا ہے کہ وہ تمام دنیا کے لئے عام طوفان تھا بلکہ اُسی ملک میں طوفان تھا جس ملک کے لوگوں کے لئے حضرت نوح بھیجے گئے تھے اورجو کچھ اس بارے میں توریت میں ہے وہ تحریف تبدیل سے خالی نہیں اورخدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خبردی ہے کہ وہ کتابیں محرّف مبدّل ہوگئی ہیں اسؔ لئے یہ اعتراض محض لغو اور سراسر بے اصل ہے۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض پیش کیا کہ مریم کیونکر روح القدس سے حاملہ ہوگئی اور کیونکر صرف مریم سے یسوع پیدا ہوگیا۔ اس کا یہی جواب ہے کہ اُسی خدا