پیدا کی گئی۔ عورتوں سے مرد پیدا ہوا کرتے ہیں اور یہاں مرد سے عورت پیدا ہوئی اور وہ بھی صرف ایک پسلی سے۔ خون سے گوشت اور پھر ہڈی بنتی ہے یہاں ہڈی سے گوشت بنا۔ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔ جاننا چاہئے کہ اس بارے میں قرآن شریف میں یہ آیت ہے 33۔۔۔33 ۱؂ ۔ الجزونمبر ۲۳ سورۃ الزمر (ترجمہ )خدا نے تم لوگوں کوایک وجود سے پیدا کیا۔ پھر اُسی وجود سے اُس کا جوڑا بنایا ۔۔۔ وہی تم کو تین اندھیروں میں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے۔ ایک قسم کی پیدائش کے بعد دوسری پیدائش سو اس آیت میں تو کہیں پسلی اور ہڈی وغیرہ کاذکر نہیں۔ صرف اِسی قدر لکھاہے کہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو پیدا کیا۔ ہاں یہ ذکر پایا جاتا ہے کہ خدا نے اپنا پہلا قانون بدلا دیا کیونکہ پہلے انسان نطفہ سے پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ ایک وجود سے دوسرا وجود پیداکیا گیا تھا تا نوعیت میں فرق نہ آوے اور پھر بعد میں یہ دوسرا قانون قدرت شروع ہوا کہ انسان نطفہ سے پیدا ہونے لگے اور یہ محل اعتراض نہیں کہ خدا نے پہلا قانون قدرت کیوں منسوخ کردیا*۔ کیونکہ خدا اپنے قانون کو اس لئے منسوخ کرتا ہے کہ تا اُس کی انواع و اقسام کی قدرتیں ظاہرہوں۔ ممدوؔ حہ بالا آیت کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ کئی قسم کی پیدائش کے بعد رحم کے اندر پورا انسان بنتا ہے اور تین اندھیر میں اس کی پیدائش ہوتی ہے(۱) پیٹ (۲) رِحم(۳) جھلی جس کے اندر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اور یاد رہے کہ پسلی اور ہڈی سے خدا کی کتابوں میں قریبی رشتے بھی مُراد لئے گئے ہیں * اس جگہ یہ ثبوت ملتا ہے کہ خدا کا یہ قانون قدرت ہے کہ بعض امور کو منسوخ کرکے دوسرے امور پیدا کرتا ہے پس جو لوگ تنسیخ کے منکر ہیں ان کو غور کرنی چاہیئے ۔ منہ