اور لفظ اختیار کیا ہے اوروہ یہ ہے 3 ۱؂ یعنی ہم نے چھ۶ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ہم اس سے تھکے نہیں۔ یہ لفظ گویا اُس لفظ کا ردہے کہ خدا نے ساتویں دن آرام کیا۔ کیونکہ ظاہری معنے اگر لئے جاویں تو اس سے خدا کا تھکنا ہی پایا جاتا ہے وجہ یہ کہ آرام وہی کرتا ہے جو تھکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ تھکنے سے پاک ہے۔ کوئی نقص اُس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔ رہی یہ بات کہ خدا تعالیٰ نے چھ۶ دن میں زمین و آسمان پیدا کیا۔ سو قرآن سے ہی ہمیں معلوم ہوا ہے کہ خدا کے دن انسان کے دنوں کے برابر نہیں۔ ایک جگہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا کا دن ایسا ہے جیسا کہ تمہارا ہزار برس اور ایک جگہ خدا کا دن پچاس ہزار برس کا لکھا ہے۔ پس ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ان چھ دنوں سے کتنی مدت مُراد ہے ہاں ہم یقیناًکہتے ہیں کہ ان چھ۶ دنوں سے مُراد وہ دن نہیں ہیں جو انسان کے دن ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب سورج اور چاند اور زمین اور آسمان کا ہی کچھ وجود نہ تھا توان انسانی دنوں کا کیونکر اورکہاں سے وجود تھا۔ اور پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے خود تو ضیح سے فرما دیا کہ انسانی دن اور ہوتے ہیں اور خدا کے دن اور تو پھر اعتراض محض شرارت یا حماقت ہے۔ پھر ماسوا اس کے جیالوجی کی تحقیقات پر کونسی سچائی کی مُہر چمکتی ہوئی نظر آتی ہے یہ تمام خیالات ظنی بلکہ محض شکی اور وہمی ہیں اور آئے دن ان میں تغیر تبدّل ہوتا رہتا ہے پہلے ؔ حکماء یونانیوں نے اِن تمام امور میں جو تحقیقاتیں کی تھیں وہ تو سائنس وغیرہ علوم جدیدہ نے جو بعد میں ظاہر ہوئے خاک میں ملا دیں اور اُن کا نام و نشان نہ رہا۔ ایسا ہی جو حال کی تحقیقاتیں ہیں وہ بھی کسی آئندہ زمانہ میں کسی اور جدید تحقیقات سے خاک میں مل جائیں گی۔ اب تک جو حکماء کی رائیں ظاہر ہوئی ہیں اُن میں کبھی آسمان کو گردش دی گئی اور کبھی زمین کو اور شاید آئندہ کوئی تیسرا مذہب نکل آوے جو آسمان و زمین دونوں کو طاق میں رکھ دے اور کوئی اور ہی بات بتلاوے۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض قرآن شریف پر سنایا کہ آدم کی پسلی سے عورت