کُنْسے سب کچھ پیدا کرلیا اور چھ دن میں زمین و آسمان بنایا اور ساتویں دن آرام کیا حالانکہ علم جیالوجی سے ثابت ہے کہ لاکھوں برسوں میں زمین بنی۔ سو ہم اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس میں کیا شک ہے کہ سب کچھ کُن سے یعنی حکم سے ہی پیدا کیا گیا ہے خواہ لاکھوں برسوں میں ایک چیز بنے اور خواہ کروڑوں برسوں میں مگر اول خدا کا حکم ہونا ضروری ہے ہر ایک شخص جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اس سے انکار نہیں کرسکتا جو ہر ایک محو واثبات حکم الٰہی سے وابستہ ہے ہاں جو شخص دہریہ اور خدا تعالیٰ سے منکر ہے اس کا یہ قول ہوگا کہ ہر ایک چیز بغیر ضرورت حکم کے خود بخود بن جاتی ہے مگر جب کہ خدا تعالیٰ کی ہستی ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ کوئی چیز بغیر اُس کے ارادہ کے ظہور پذیر نہیں ہوسکتی تو اس سے ہر ایک ایماندار کو ماننا پڑتا ہے کہ کوئی چیز بغیر اُس کے ارادہ کے ظہور پذیر نہیں ہوسکتی کسی طاقت کی مجال نہیں ہے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے حکم کے کچھ کام کرسکے اور جس آیت میں کُنْکا لفظ ہے وہ آیت یہ ہے۔ 3 ۱؂ یعنی خدا کا حکم اس طرح پر ہوتا ہے کہ جب وہ کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہو تو وہ ہو جاتی ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ فی الفور بلا توقف ہو جاتی ہے کیونکہ آیت میں فی الفور کا لفظ نہیں ہے بلکہ آیت اطلاق پر دلالت کرتی ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ چاہے تو خدا تعالیٰ اس امر کو جلدی سے کردے اور چاہے تو اس میں دیر ڈال دے جیسا کہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ؔ بھی یہی مشہود و محسوس ہے کہ بعض امور جلدی سے ہو جاتے ہیں اور بعض دیر سے ظہور میں آتے ہیں۔ پس یہ کونسا محل اعتراض ہے ا ور اگر انسان کے دل میں کچھ شرم اور حیا ہو تو ایسے اعتراض کی حقیقت سوچ کر شرمندگی سے مرہی رہے گا مگر ان لوگوں کو کچھ شرم بھی تو نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ خدا نے چھ۶ دن میں زمین و آسمان پیدا کیا اور ساتو۷یں دن آرام کیا سو اوّل تو واضح ہو کہ آرام کا لفظ قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا۔ ہاں توریت میں یہ لفظ ہے سو وہ کوئی استعارہ ہوگا لیکن اس دھوکہ کے دُور کرنے کے لئے اس موقعہ پر قرآن شریف نے ایک