شدہ صفات کے برخلاف ہو یا اس کے ذکر کردہ عہد کے منافی ہو وہی اُس کے قانونِ قدرت کے برخلاف سمجھا جائے گا۔ مثلاً اُس کی صفات ثابت شدہ سے یہ امر ہے کہ اُس کا کوئی ثانی نہیں اور یہ امر ہے کہ اس پرموت وارد نہیں ہوسکتی اور نیز یہ امر ہے کہ اپنی صفات کے مطابق وہ کسی بات کے کرنے سے عاجز نہیں اور یا مثلاً اس کا یہ عہد ہے کہ جو شخص مرجائے پھر اس کو دُنیا میں آباد کرنے کے لئے واپس نہیں لاتا۔سوجو بات ان ثابت شدہ صفات اور عہد کے برخلاف ہو اس کی طرف وہ توجہ نہیں کرتا۔ وہ اپنا ثانی کسی کو نہیں بناتا وہ خودکشی نہیں کرتا اور کسی پرموت وارد کرکے پھر اُس کو دنیا میں لاکر آباد نہیں کرتا اور اِن امور کے سوا وہ سب کچھ کرسکتا ہے کس کی یہ مجال ہے کہ وہ یہ کہے کہ صرف فلاں حد تک اُس کی قدرتیں ہیں آگے نہیں یا فلاں فلاں امور اُس کے احاطہ اقتدار سے باہر ہیں اور وہ اُن کے کرنے سے عاجز ہے۔ ہاں اُس کی عجائب قدرتیں ہر ایک کے ساتھ یکساں نہیں جیسے جیسے انسان اس سے تعلق محبت اور اخلاص پیدا کرتا ہے اسی قدر اُس پر قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں اور جو اُس کے کام عوام کے لئے محال ہیں اور ظاہر نہیں ہوتے وہ خواص کے لئے بباعث اُن کے تعلق کے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ غرض اُس کی ذات میں بے شمار عجائب قدرتیں ہیں مگر اسی پر ظاہر ہوتی ہیں جو اُس کی محبت میں گم ہو جاتاہے وہ ان کے لئے وہ کام دکھاتا ہے جو ایک اندھا فلسفی اسؔ کام کومحال سمجھتا ہے وہ اپنے صادق محبوں کے لئے وہ عجائبات ظاہر کرتا ہے جو دنیا کے عقلمند اُس کو فوق العادت سمجھتے ہیں اُس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور صرف ایسی بات وہ نہیں کرتا جو اس کا عہد یا اُس کے صفات روکتے ہوں۔ مبارک وہ جو اُس کی قدرتوں کی نسبت اپنے ایمان کو ترقی دیں ورنہ بے ایمان کی دُعا بھی قبول نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ اپنی شیطانی نیچریت کی وجہ سے اُس کو قادر نہیں جانتا۔
پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ