ایسے لوگوں کو ان جرائم اور بدعقائد کی اطلاع دینا کہ وہ اُن سے بکلی بے خبر ہیں یہ گویا اُن کو ان گناہوں کی طرف خود میلان دیتا ہے۔ سو خدا کی وحی حضرت آدم سے تخم ریزی کی طرح شروع ہوئی اوروہ تخم خدا کی شریعت کا قرآن شریف کے زمانہ میں اپنے کمال کو پہنچ کر ایک بڑے درخت کی طرح ہوگیا اور ہم لکھ چکے ہیں کہ وید پر یہ سراسر تہمت ہے کہ وہ ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے۔ بلکہ وہ متفرق وقتوں کا ایک مجموعہ ہے جیسا کہ محققین اس کی نسبت رائے ظاہرکر چکے ہیں۔ اور ابتدائے زمانہ کا دعویٰ جو کیا جاتا ہے اُس کے رد کرنے کے لئے وید ہی کافی ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ وید کے ذریعہ سے جو کچھ آریوں کو فیض پہنچا وہ تویہی ہے کہ اس ملک کے کروڑہا ہندو لوگ مخلوق پرستی کی بلا میں گرفتار ہوگئے۔ اِن لوگوں نے مخلوق پرستی میں حد ہی کردی کہ نہ پانی چھوڑا نہ آگ۔ نہ سورج نہ چاند۔نہ پتھر نہ انسان نہ درخت بلکہ ہر ایک عجیب چیز کو خدا سمجھ لیا۔ آخر جب قرآن شریف کا اس مُلک میں مبارک قدم پڑا تو کروڑہا ہندوؤں کو اُس نے مخلوق پرستی کی بلا سے نجات دی اور دے رہاہے مگر پھر یہ لوگ ناشکر گذار ہیں اور ناحق وید وید کر رہے ہیں۔ شاید وید کے پہلے ہاتھ جو ان کو لگ چکے ہیں وہ بھول گئے۔
پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر ایک یہ اعتراض کیا کہ اُس میں سینکڑؔ وں باتیں قانون قدرت کے برخلاف ہیں جب تک مسلمان لوگ اُن کی مطابقت قانونِ قدرت سے نہ کر دکھائیں تب تک ایمان لانے کے لئے ہم لوگوں کو مدعو نہ کریں۔ اس بیہودہ اعتراض کا ہم پہلے بھی جواب دے آئے ہیں کہ خدا کے قانون قدرت کی وہ شخص حد بست کر سکتا ہے جو خدا سے بھی بڑھ کر ہو ورنہ یہ خیال نہایت بے ادبی اور بے ایمانی ہے کہ وہ خدا جس کے اسرار وراء الوراء ہیں اور جس کی قدرتیں اُس کی ذات کی طرح ناپیدا کنار ہیں اُس کے عجائبات قدرت کو کسی حد تک محدود کر دیا جائے۔ کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ کی ذات غیر محدود ہے تو پھر اُس کی صفات کیونکر محدود ہو جائیں گی ہاں جو امر اُس کے ثابت