صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتا ہے اور ہم ہر ایک امر میں اُسی ذریعہ سے فیضیاب ہیں اور چونکہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کاارادہ ہے کہ تمام انسانوں کو ایک ہی قوم بناوے اس لئے ہم کبھی دوسری زبانوں میں الہام پاتے ہیں مگر اکثر خدا تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ عربی میں ہی ہوتا ہے بلکہ بہت حصہ خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کا قرآن شریف کی آیتوں کے ساتھ ہوتا ہے جس سے یہ ظاہرکرنا مقصود ہوتا ہے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور اس طور پر ایک نئے طریق سے ملہم کو یقین دلایا جاتا ہے کہ جس رسول پروہ ایمان رکھتا ہے وہ سچا رسول ہے اور جس کتاب کو وہ مانتا ہے یعنی قرآن شریف کو وہ خدا کی کتاب ہے۔ غرض جبکہ اب بھی مختلف زبانوں میں الہام ہوتا ہے اور صدہا پیشگوئیاں اُس الہام کے ذریعہ سے پوری ہوتی ہیں تو کیا اب تک ثابت نہ ہوا کہ خدا ہر ایک زبان میں الہام کرتا ہے کیا سچی خوابیں خدا کی طرف سے نہیں ہوتیں کیا اُن میں بھی ویدک سنسکرت لازمی امر ہے۔ اب ہم مضمون پڑھنے والے کی پیش کردہ نشانیوں کو اختصار کے ساتھ بیان کرچکے اور اس کے بعد ہم اُن اعتراضات کا جواب دیں گے جو اُس نے اپنی تجویز کردہ نشانیوں کی بنا پر قرآن شریف پر کئے ہیں۔ اول یہ اعتراض کیا ہے کہ قرآن شریف آغاز دنیا میں ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا ہم ؔ پہلے بھی اِس اعتراض کا جواب لکھ آئے ہیں کہ چونکہ قرآن شریف امر معروف اور نہی منکر میں کامل ہے اور خدا نے اُس میں یہی ارادہ کیا ہے کہ جو کچھ انسانی فطرت میں انتہا تک بگاڑ ہو سکتا ہے اور جس قدر گمراہی اور بدعملی کے میدانوں میں وہ آگے سے آگے بڑھ سکتے ہیں اُن تمام خرابیوں کی قرآن شریف کے ذریعہ سے اصلاح کی جائے اس لئے ایسے وقت میں اُس نے قرآن شریف کو نازل کیا کہ جب کہ نوع انسان میں یہ تمام خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں اور رفتہ رفتہ انسانی حالت نے ہر ایک بدعقیدہ اور بدعمل سے آلودگی اختیار کرلی تھی اور یہی حکمتِ الٰہیہ کا تقاضا تھا کہ ایسے وقت میں اُس کا کامل کلام نازل ہو کیونکہ خرابیوں کے پیدا ہونے سے پہلے