لیکنؔ اگر یہ تما م چیزیں جن سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے یا جن پر بقائے نسل موقوف ہے محض اتفاقی طور پر تناسخ کے ذریعہ سے پیدا ہوگئی ہیں تو پھر یہ چیزیں خدا کے وجود پر ہرگز دلالت نہیں کریں گی کیونکہ وہ تناسخ کی مختلف ہواؤں سے اختلاف پذیر ہوکر ایک نظام کے شیرازہ میں منضبط نہیں رہیں گی اور اس صورت میں انسانی آرام اور آسائش کے لئے ان چیزوں پر بھروسہ کرنا نہایت خطرناک ہوگا۔ مثلاً اگر یہ بات سچ ہے کہ نوع انسان میں سے جو بعض مرد ہیں اور بعض عورت یہ اختلاف آواگون یعنی تناسخ کی شامت سے ہے تو اس صورت میں امان اُٹھ جاتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ بعض زمانوں میں انسانوں کے ایسے اعمال واقع ہوں کہ کوئی روح اعمال کی رُو سے مرد بننے کے لائق ہی نہ ہو۔ یا کوئی رُوح عورت بننے کے لائق نہ ہو۔ اِسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ بعض ضروری چیزیں کہ جو انسان کی خوراک یا آرام اور آسائش کے لئے ضروری ہیں جیسے گائے بیل گھوڑے وغیرہ وہ بباعث نہ ہونے اعمال تناسخ کے زمین پر سے مفقود ہو جائیں یعنی نوع انسان سے ایسے اعمال ہی ظہور میں نہ آئیں جن کی وجہ سے اُن کو گائے یا بیل یاگھوڑا بننا پڑے۔ پس ظاہرہے کہ اگر یہ تمام چیزیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں اُن کا وجود محض اتفاقی ہوتا تو یہ سلسلہ کبھی نہ کبھی ٹوٹ جاتا اور نہ اس سلسلہ کو خدا کے وجود پر کوئی دلالت رہتی۔ اِس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ آریوں کے اصول کی رُو سے خدا تعالیٰ اُن تمام مختلف اشکال کے حیوانات کاحقیقی مالک نہیں ہے اور نہ اس کے اپنے ارادہ اور خواہش سے یہ مختلف اشکال کے حیوان زمین پر پیدا ہوگئے ہیں اور نہ اس کی مصلحت اور حکمت کی رُو سے ان کا وجودزمین پر ضروری ہے بلکہ اُن تمام حیوانات کا زمین پر ہونا یا نہ ہونا صرف اُن اعمال پر موقوف ہے جو تناسخ کے چکر میں ڈالتے ہیں اور جب کہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کو اپنی ذات میں دوام نہیں ہوسکتا بلکہ ہر ایک حیوان کا وجود وابستہء تناسخ ہے تو اس صورت میں ایسی چیزوں کو جو محض تناسخ کی وجہ سے ظہور پذیر ہیں کیونکر خدا تعالیٰ کے وجود پر دلالت ہوسکتی ہ