میں تغیرات ڈالتا ہے اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہوجس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے پس جب کہ بموجب اصول آریہ سماج کے وید کے رشیوں کی زبان ویدک سنسکرت نہیں تھی اور نہ وہ اُس کے بولنے اور سمجھنے پر قادر تھے اور پھر خدا کا ایسی بیگانہ زبان میں اُن کو الہام کرنا گو یادیدہ دانستہ اُن کو اپنی تعلیم سے محروم رکھنا تھا۔ اور اگر کہو کہ خدا اُن کو اُن کی زبان میں سمجھادیتا تھا کہ اِن عبارتوں کے یہ معنی ہیں تو اس صورت میں پرمیشر کا یہ عہد بحال نہیں رہے گا کہ انسانی زبان میں اُس کو بولنا حرام ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ ان نہایت کچی اور خام باتوں کے پیش کرنے سے آریوں کو فائدہ کیا ہے کیا جو کچھ انسان کا ہے وہ سب کچھ پرمیشر کا نہیں ہے تو پھر کونسی پرمیشر کی ہتک عزت ہے کہ انسان کو اُسی کی زبان میں سمجھا دے کیا ہمارا خدا ہماری دعائیں ہماری زبان میں ہی نہیں سنتا۔ پس جب کہ ہماری زبان میں ہی ہماری دعا سننے سے اُس کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا تو پھر ہماری زبان میں ہی ہمیں کوئی راہ راست سمجھانے سے کیوں اُس کی شان میں فرق آئے گا۔
پس یاد رکھنا چاہئے کہ قدیم سنت اللہ کے موافق تو یہی عادت الٰہی ہے کہ وہ ہر اؔ یک قوم کے لئے اُسی زبان میں ہدایت کرتا ہے لیکن اگر کوئی زبان ایسی ہو کہ ملہم کو خوب یا د ہو اور گویا اُس کی زبان کے حکم میں ہو تو بسا اوقات ملہم کو اس زبان میں الہام ہوجاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کے بعض الفاظ سے یہ سند ملتی ہے کیونکہ اوّل قرآن شریف قریش کی زبان میں ہی نازل ہونا شروع ہوا تھا کیونکہ اوّل مخاطب قریش ہی تھے مگر بعد اس کے قرآن شریف میں عرب کی اور اور زبانوں کے بھی الفاظ آگئے ہیں اور ہم لوگ جو قرآن شریف کے پیرو ہیں اور ہماری شریعت کی کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے قرآن شریف ہے اس لئے ہم خدا تعالیٰ سے اکثر عربی میں الہام پاتے ہیں تا وہ اس بات کا نشان ہوکہ جوکچھ ہمیں ملتا ہے وہ آنحضرت