اُن زبانوں میں فرق کیا ہوا اور ویدک کی سنسکرت میں کونسی خاص علامت ہے جس سے وہ ایشور کی زبان سمجھی جاوے۔ ہاں چونکہ اب وہ اِس زمانہ میں مُردہ زبان ہے اور کوئی قوم اس کو بولتی نہیں اس لئے ایک نادان خیال کرسکتا ہے کہ وہ زبان چونکہ انسانی استعمال سے الگ ہے اس لئے وہ ایشور کی زبان ہوگی مگر متروک الاستعمال ہونا یہ امر سنسکرت سے ہی خاص نہیں بلکہ اور کئی زبانیں ہیں جو اول بولی جاتی تھیں اب متروک الاستعمال ہیں تو کیا اس وجہ سے وہ تمام زبانیں ایشورکی زبان بن جائیں گی اور اگر ویدک سنسکرت کسی اور دلیل سے ایشور کی زبان کہلاتی ہے اور ایشور کسی خاص اپنی کچہری میں وہ زبان بولاکرتا ہے تو اس پر کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے ورنہ جو کچھ عبری زبانوں اور فارسی زبانوں اور دوسرے ممالک کی زبانوں میں انواع اقسام کے تغیرات آکر بعض زبانیں تو بالکل مُردہ ہوگئیں اور بعض میں اس قدر تغیرآئے کہ پہلے الفاظ بہت ہی تھوڑے اُن میں باقی رہ گئے اور نئے الفاظ اور نئے محاورات اُن میں داخل ہوگئے اگر اس قسم کے نمونوں کا شوق ہو تو ہم اس بارے میں ایک بڑی لمبی فہرست پیش کرسکتے ہیں پس اگر کوئی زبان متروک الاستعمال ہونے کی وجہ سے ایشر کی زبان ہوسکتی ہے تو پھر ان تمام دوسری زبانوں نے کیا گناہ کیا ہے جو متروک الاستعمال ہیں کہ اُن کو ایشور کی زبانیں نہ کہا جائے۔ آریوں کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ دوسری زبانیں بھی قدؔ یم ہیں کیونکہ جب کہ یہ دُنیا کا سلسلہ قدیم ہے تو کیا وجہ کہ نوع انسان کی آبادی کروڑہا اربوں سے صرف آریہ ورت تک ہی محدود رہی اور اُن کی ایک ہی زبان رہی۔ اس بات کو تو کوئی عقلمند نہیں مانے گا کیونکہ یہ قانون قدرت کے برخلاف ہے اور جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دو۲ تین سو برس گذرنے تک ایک زبان میں کچھ تغیر پیدا ہو جاتا اور ایسا ہی جب ایک جگہ سے مثلاً سو کوس کے فاصلہ پر آگے نکل جائیں تو صریح زبان کا تغیر محسوس ہوتا ہے تو اس سے صاف ثابت ہے کہ اِختلَافِ اَلْسِنَۃ ایک قدیمی امر ہے جس پر موجودہ حالت گواہی دے رہی ہے پس ماننا پڑتا ہے کہ جس نے انسان کو بنایا اُسی نے اُن کی زبانوں کو بنایا ہے اور وقتاً فوقتاً وہی اُن